کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آسمان میں لکھا ہوا ہے: حمزہ اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر ہیں
حدثنا أبو العبّاس، حدثنا سعيد بن محمد أبو عمر الحَجْواني، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا قُدامة بن موسى الجُمَحي، عن عبد الله بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن جدِّه، قال: جاء عليٌّ وحمزةُ إلى النبي ﷺ وقد اغتَسلا، فقال النبيُّ ﷺ: "كيف صَنَعتُما؟ " قال أحدُهما: يا رسولَ الله، سترتُه بالثَّوب، وقال الآخرُ: فَعَلتُ مثلَ ذلك، فقال رسولُ الله ﷺ: "لو فَعلتُما غيرَ ذلك لسَتَرتُكُما" (4). صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4879 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4879 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں غسل کر کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم دونوں نے (پردے کا معاملہ) کیسے کیا؟“ ان میں سے ایک نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں کپڑے سے ڈھانپے رکھا“، اور دوسرے نے بھی اسی طرح عرض کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کرتے تو میں خود تمہاری پردہ پوشی کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا معاوية بن عمرو، عن أبي إسحاق الفَزَاري، عن ابن عَوْن، عن عُمير بن إسحاق، عن سعد بن أبي وَقّاص، قال: كان حمزةُ بن عبد المطّلب يُقاتِل يومَ أُحُدٍ بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، ويقول: أنا أسدُ الله (1). صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4880 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4880 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جنگِ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈھال بن کر قتال کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”میں اللہ کا شیر ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔