المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَكْتُوبٌ فِي السَّمَاءِ حَمْزَةُ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ باب: آسمان میں لکھا ہوا ہے: حمزہ اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر ہیں
حدیث نمبر: 4940
حدثنا أبو العبّاس، حدثنا سعيد بن محمد أبو عمر الحَجْواني، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا قُدامة بن موسى الجُمَحي، عن عبد الله بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن جدِّه، قال: جاء عليٌّ وحمزةُ إلى النبي ﷺ وقد اغتَسلا، فقال النبيُّ ﷺ: "كيف صَنَعتُما؟ " قال أحدُهما: يا رسولَ الله، سترتُه بالثَّوب، وقال الآخرُ: فَعَلتُ مثلَ ذلك، فقال رسولُ الله ﷺ: "لو فَعلتُما غيرَ ذلك لسَتَرتُكُما" (4). صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4879 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا علی اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں غسل کر کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم دونوں نے (پردے کا معاملہ) کیسے کیا؟“ ان میں سے ایک نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں کپڑے سے ڈھانپے رکھا“، اور دوسرے نے بھی اسی طرح عرض کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کرتے تو میں خود تمہاری پردہ پوشی کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔