کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گزرنے تک اپنی نگاہیں جھکا لو
حدثني أحمد بن بالوَيهِ العَفْصي من أصلِ كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبو مُسلِم قائدُ الأعمش، حدثنا الأعمش، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "تُبعَثُ الأنبياءُ يومَ القيامة على الدّوابِّ ليُوافُوا بالمؤمنين مِن قومِهم المَحشَرَ، ويُبعَثُ صالحٌ على ناقتِه، وأُبعَثُ على البُراق، خَطْوُها عند أقصى طَرْفها، وتُبعَثُ فاطمةُ أَمامي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4727 - أبو مسلم لم يخرجوا له
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4727 - أبو مسلم لم يخرجوا له
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن انبیاء کرام اپنی سواریوں پر اٹھائے جائیں گے تاکہ وہ اپنی قوم کے اہل ایمان کے ہمراہ میدانِ محشر میں حاضر ہوں، سیدنا صالح علیہ السلام اپنی اونٹنی پر اٹھائے جائیں گے، مجھے براق پر اٹھایا جائے گا جس کا ایک قدم وہاں پڑتا ہے جہاں اس کی نظر ختم ہوتی ہے، اور فاطمہ میرے آگے آگے سوار ہوں گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العبدي ببغداد وأبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة وأبو العباس محمد بن يعقوب وأبو الحسين بن ماتِي بالكوفة والحسن بن يعقوب العَدْل، قالوا: حدثنا إبراهيم بن عبد الله العَبْسي، حدثنا العباس بن الوليد بن بَكّار الضَّبِّي، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن بَيَان، عن الشَّعْبي، عن أبي جُحَيفة، عن عليّ، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "إذا كان يومُ القيامة نادى مُنادٍ من وراء الحِجَاب: يا أهلَ الجَمْعِ، غُضُّوا أبصارَكُم عن فاطمةَ بنتِ محمدٍ حتى تَمُرَّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4728 - لا والله بل موضوع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4728 - لا والله بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی (پکارنے والا) پردے کے پیچھے سے ندا دے گا: اے اہل محشر! اپنی نگاہیں نیچی کر لو یہاں تک کہ فاطمہ بنت محمد (رضی اللہ عنہا) گزر جائیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكّار بن قُتَيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا هشام (1)، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سلّام، عن أبي أسماء الرَّحَبي، عن ثَوبان مولي رسول الله ﷺ قال: جاءتِ ابنةُ هُبَيرة إلى رسول الله ﷺ وفي يدها فَتَخٌ من ذهب - أو خواتيمُ من ذهب - فجعل رسول الله ﷺ يضرب بيدها، فأتت فاطمة بنت رسول الله ﷺ فشَكَتْ إليها ما صَنَع بها رسول الله ﷺ، قال ثوبان: فدخل رسول الله ﷺ على فاطمة وأنا معه، وقد أخذتْ من عُنقها سِلسِلةً من ذَهَبٍ، فقالت: هذه أهداها [إلي] أبو حَسَن، فدخل رسول الله ﷺ والسِّلسِلةُ في يدها، فقال: "يا فاطمة، أيسُرُّكِ أن يقولَ الناسُ: فاطمة بنت محمدٍ، وفي يدكِ سلسلةٌ من نارٍ؟! " ثم خرج رسول الله ﷺ [ولم يقعد]، فَعَمَدَت فاطمة إلى السلسلة فاشترت بها غُلامًا فأعتقته، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فقال: "الحمد لله الذي نَجّى فاطمة من النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4729 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4729 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابنہ ہبیرہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جبکہ ان کے ہاتھ میں سونے کے بڑے کڑے یا انگوٹھیاں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہاتھ پر مارنا شروع کر دیا، پس وہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کی شکایت کی، ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، انہوں نے اپنے گلے سے سونے کی ایک زنجیر نکالی اور کہا: ”یہ مجھے ابو حسن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے تحفے میں دی ہے“، آپ ﷺ داخل ہوئے جبکہ وہ زنجیر ان کے ہاتھ میں تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ لوگ کہیں کہ محمد کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے؟!“ پھر رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھے بغیر باہر تشریف لے گئے، چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فوراً اس زنجیر کے بدلے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا، جب یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات عطا فرمائی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري. وأخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة؛ قالا: حدثنا عبد الله بن محمد بن سالم، حدثنا حسين بن زيد بن علي [عن عمر بن علي] (2) عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ لفاطمةَ: "إِنَّ الله يَغضَبُ لِغَضَبِك، ويَرضى لرضاكِ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4730 - بل حسين بن زيد منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4730 - بل حسين بن زيد منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری ناراضگی پر ناراض ہوتا ہے اور تمہاری خوشی پر خوش ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔