المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
غَضُّوا أَبْصَارَكُمْ عَنْ فَاطِمَةَ حَتَّى تَمُرَّ . باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گزرنے تک اپنی نگاہیں جھکا لو
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكّار بن قُتَيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا هشام (1)، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سلّام، عن أبي أسماء الرَّحَبي، عن ثَوبان مولي رسول الله ﷺ قال: جاءتِ ابنةُ هُبَيرة إلى رسول الله ﷺ وفي يدها فَتَخٌ من ذهب - أو خواتيمُ من ذهب - فجعل رسول الله ﷺ يضرب بيدها، فأتت فاطمة بنت رسول الله ﷺ فشَكَتْ إليها ما صَنَع بها رسول الله ﷺ، قال ثوبان: فدخل رسول الله ﷺ على فاطمة وأنا معه، وقد أخذتْ من عُنقها سِلسِلةً من ذَهَبٍ، فقالت: هذه أهداها [إلي] أبو حَسَن، فدخل رسول الله ﷺ والسِّلسِلةُ في يدها، فقال: "يا فاطمة، أيسُرُّكِ أن يقولَ الناسُ: فاطمة بنت محمدٍ، وفي يدكِ سلسلةٌ من نارٍ؟! " ثم خرج رسول الله ﷺ [ولم يقعد]، فَعَمَدَت فاطمة إلى السلسلة فاشترت بها غُلامًا فأعتقته، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فقال: "الحمد لله الذي نَجّى فاطمة من النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4729 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهرسول اللہ ﷺ کے مولیٰ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابنہ ہبیرہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جبکہ ان کے ہاتھ میں سونے کے بڑے کڑے یا انگوٹھیاں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہاتھ پر مارنا شروع کر دیا، پس وہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کی شکایت کی، ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، انہوں نے اپنے گلے سے سونے کی ایک زنجیر نکالی اور کہا: ”یہ مجھے ابو حسن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے تحفے میں دی ہے“، آپ ﷺ داخل ہوئے جبکہ وہ زنجیر ان کے ہاتھ میں تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ لوگ کہیں کہ محمد کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے؟!“ پھر رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھے بغیر باہر تشریف لے گئے، چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فوراً اس زنجیر کے بدلے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا، جب یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات عطا فرمائی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام غلطی سے "ہمام" لکھا گیا ہے، اس کی تصحیح پچھلی گزری ہوئی روایت نمبر (4778) اور "مسند طیالسی" (1083) سے کی گئی ہے۔
(1) حديث صحيح، وهو مكرر (4778).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور یہ نمبر (4778) پر گزر چکی ہے (مکرر ہے)۔