وحدثنا أبو الوليد، حدثنا الهيثم بن خَلَف، حدثنا علي بن الربيع الأنصاري، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن أبي رَوْق (1)، عن مولًى لِعليّ: أنَّ الحسن صلّى على عليٍّ، وكبَّر عليه أربعًا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیریں کہیں۔
فحدثني أبو سعيد أحمد بن محمد بن النَّخَعي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي حاتم، حدثني أبي حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نصر، قال: سمعتُ إسماعيل بن عبد الرحمن يقول: كان عبد الرحمن بن مُلجَم المُرادِيّ عَشِقَ امرأةً من الخوارج من تَيْم الرِّبَاب يقال لها: قَطامِ، فنكَحَها وأصْدَقَها ثلاثةَ آلافِ درهمٍ، وقَتْلَ عليٍّ ﵁، وفي ذلك قال الفرزدق: فلم أر مَهرًا ساقَهُ ذو سَماحَةٍ … كَمَهرِ قَطَامٍ بَيِّنٍ غَيرِ مُعجَمِ ثلاثةُ آلافٍ وعبدٌ وقَنْيةٌ … وضَرْبُ عليٍّ بالحُسَامِ المُصمَّمِ فلا مَهرَ أَغلى من عليّ وإن غَلَا … ولا فَتْكَ إلَّا دُون فَتْكِ ابن مُلجَمِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4690 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4690 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
اسماعیل بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم مرادی قبیلہ تیم الرباب کی قطام نامی ایک خارجی عورت کے عشق میں مبتلا ہو گیا، اس نے اس سے نکاح کیا اور اس کا مہر تین ہزار درہم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قتل مقرر کیا، اسی بارے میں فرزدق نے (اپنے اشعار میں) کہا: ”میں نے قطام کے مہر جیسا کوئی مہر نہیں دیکھا جو کسی سخی نے دیا ہو اور وہ بالکل واضح ہو، یعنی تین ہزار درہم، ایک غلام، ایک لونڈی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تیز تلوار سے وار کرنا، پس علی کے خون سے مہنگا کوئی مہر نہیں چاہے وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اور ابن ملجم کے وار جیسی کوئی بزدلانہ کارروائی نہیں۔“
أخبرنا أبو بكر محمد بن عَلُّون (1) المقرئ ببغداد، حدثنا محمد بن يونس، حدثنا عبد العزيز بن الخَطّاب، حدثنا علي بن غُراب، عن مُجالِد، عن الشَّعْبي، قال: لما ضَرب ابن مُلجَمٍ عليًّا تلك الضربة أوصى، فقال: قد ضربني فأحسِنُوا إليه، وأَلِينُوا له فِراشَه، فإن أعِشْ فَهَضْمٌ أو قِصاص، وإن أمُتْ فَعاجِلُوه، فإني مُخاصِمُه عند ربِّي ﷿ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4691 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4691 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی سے روایت ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وہ ضرب لگائی تو آپ نے وصیت فرماتے ہوئے کہا: ”اس نے مجھے ضرب لگائی ہے تو تم اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اس کا بستر نرم رکھنا، پھر اگر میں زندہ رہا تو معاف کرنا یا قصاص لینا میرا حق ہوگا، اور اگر میں فوت ہو جاؤں تو اسے (قتل کر کے) مجھ سے ملا دینا، میں اپنے رب عزوجل کے حضور اس کے خلاف مقدمہ پیش کروں گا۔“
حدثنا أبو الوليد، حدثنا الهيثم بن خلف، حدثنا محمود بن غَيلان، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا شَريك، عن عِمران بن ظَبْيان، عن أبي تِحيَى، قال: لما جاؤوا بابن مُلجَم إلى عليّ، قال: اصنَعوا به ما صَنعَ رسولُ الله ﷺ برجلٍ جُعِلَ له على أن يَقْتلَه، فأمر أن يُقتَلَ ويُحرَّق بالنار (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4692 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4692 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابوتحییٰ سے روایت ہے کہ جب وہ ابن ملجم کو پکڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے اور آگ میں جلانے کا حکم دیا تھا۔“
فأخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار الإمام، حدثنا رافع بن حرب اللّيثي، حدثنا حَكيم بن زيد، عن أبي إسحاق الهَمْداني، قال: رأيتُ قاتِلَ عليِّ بن أبي طالب يُحرَّق بالنار في أصحاب الرِّماح (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4693 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4693 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو اسحاق ہمدانی سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قاتل کو نیزہ برداروں کے درمیان آگ میں جلائے جاتے ہوئے دیکھا۔“