المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
سَبَبُ شَهَادَةِ عَلِيٍّ . باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سبب
حدیث نمبر: 4744
فأخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار الإمام، حدثنا رافع بن حرب اللّيثي، حدثنا حَكيم بن زيد، عن أبي إسحاق الهَمْداني، قال: رأيتُ قاتِلَ عليِّ بن أبي طالب يُحرَّق بالنار في أصحاب الرِّماح (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4693 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابو اسحاق ہمدانی سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قاتل کو نیزہ برداروں کے درمیان آگ میں جلائے جاتے ہوئے دیکھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لجهالة رافع بن حرب الليثي، فليس له ذكر في كتب الرجال، وحكيم بن زيد - وهو المروزي - روى عنه ثلاثة وقال أبو حاتم: صالح هو شيخ، وقال أبو الفتح الأزدي فيه نظر.
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "رافع بن حرب اللیثی" کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے، کیونکہ کتبِ رجال میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
جرح و تعدیل: راوی "حکیم بن زید" (المروزی) سے تین راویوں نے روایت کی ہے۔ ابو حاتم نے فرمایا: "یہ صالح ہے، ایک شیخ ہے"، جبکہ ابو الفتح الازدی نے فرمایا: "اس میں نظر ہے (یعنی ضعیف ہے)"۔
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "رافع بن حرب اللیثی" کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے، کیونکہ کتبِ رجال میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
جرح و تعدیل: راوی "حکیم بن زید" (المروزی) سے تین راویوں نے روایت کی ہے۔ ابو حاتم نے فرمایا: "یہ صالح ہے، ایک شیخ ہے"، جبکہ ابو الفتح الازدی نے فرمایا: "اس میں نظر ہے (یعنی ضعیف ہے)"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4744 سے ماخوذ ہے۔