کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس رات شہید کیے گئے جس رات قرآن نازل ہوا
حدثني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا شَريك، عن عثمان بن أبي زُرْعة، عن زيد بن وهب، قال: قَدِمَ على عليٍّ وفدٌ من أهل البصرة، وفيهم رجلٌ من الخوارج يقال له: الجَعْد بن بَعْجة، فحَمِدَ الله وأَثنَى عليه، وصلّى على النبيّ ﷺ، ثم قال: اتّقِ الله يا عليُّ، فإنك ميّتٌ، فقال له عليٌّ: لا، ولكن مقتولُ ضربةٍ على هذا تَحْضِبُ هذه - قال: وأشار عليٌّ إلى رأسِه ولحيتِه بيده - قضاءٌ مَقضيٌّ، وعهدٌ معهودٌ، وقد خابَ من افتَرى. ثم عابَ عليًّا في لِباسِه، فقال: لو لبستَ لباسًا خيرًا من هذا! فقال: إنَّ لباسي هذا أبعَدَ لي من الكِبْر، وأجدَرُ أن يَقتديَ بيَ المسلمون (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4687 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4687 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل بصرہ کا ایک وفد آیا جس میں جعد بن بعجہ نامی ایک خارجی بھی تھا، اس نے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود کے بعد کہا: اے علی! اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے مرنا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں اس (سر) پر ایسی ضرب سے قتل کیا جاؤں گا جس سے یہ (داڑھی) رنگین ہو جائے گی، یہ ایسا فیصلہ ہے جو ہو چکا ہے اور ایسا عہد ہے جو کیا جا چکا ہے، اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے بہتان باندھا۔“ پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس پر عیب لگایا تو آپ نے فرمایا: ”میرا یہ لباس مجھے تکبر سے دور رکھنے والا اور مسلمانوں کے لیے میری پیروی کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“
حدثنا الأستاذ أبو الوليد، حدثنا (2) الهيثم بن خَلَف الدُّوري، حدثنا سَوَّار بن عبد الله العَنْبري، حدثنا المعتمِر، قال: قال أَبي: حدثنا الحُرَيث بن مُخَشِّي: أنَّ عليًّا قُتل صبيحةَ إحدى وعشرين من رمضان، قال: فسمعتُ الحسنَ بن عليٍّ يقول وهو يَخطُب، وذكرَ مناقبَ عليّ، فقال: قُتل ليلةَ أُنزل القرآنُ، وليلةَ أُسريَ بعيسى، وليلةَ قُبض موسى، قال: وصلّى عليه الحسنُ بن عليّ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4688 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4688 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حریث بن مخشی سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ 21 رمضان المبارک کی صبح شہید ہوئے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خطبہ دیتے ہوئے سنا جس میں انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کیے اور فرمایا: ”وہ اسی رات شہید ہوئے جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور جس میں موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کی گئی تھی۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔