حدیث نمبر: 4738
حدثني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا شَريك، عن عثمان بن أبي زُرْعة، عن زيد بن وهب، قال: قَدِمَ على عليٍّ وفدٌ من أهل البصرة، وفيهم رجلٌ من الخوارج يقال له: الجَعْد بن بَعْجة، فحَمِدَ الله وأَثنَى عليه، وصلّى على النبيّ ﷺ، ثم قال: اتّقِ الله يا عليُّ، فإنك ميّتٌ، فقال له عليٌّ: لا، ولكن مقتولُ ضربةٍ على هذا تَحْضِبُ هذه - قال: وأشار عليٌّ إلى رأسِه ولحيتِه بيده - قضاءٌ مَقضيٌّ، وعهدٌ معهودٌ، وقد خابَ من افتَرى. ثم عابَ عليًّا في لِباسِه، فقال: لو لبستَ لباسًا خيرًا من هذا! فقال: إنَّ لباسي هذا أبعَدَ لي من الكِبْر، وأجدَرُ أن يَقتديَ بيَ المسلمون (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4687 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل بصرہ کا ایک وفد آیا جس میں جعد بن بعجہ نامی ایک خارجی بھی تھا، اس نے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود کے بعد کہا: اے علی! اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے مرنا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں اس (سر) پر ایسی ضرب سے قتل کیا جاؤں گا جس سے یہ (داڑھی) رنگین ہو جائے گی، یہ ایسا فیصلہ ہے جو ہو چکا ہے اور ایسا عہد ہے جو کیا جا چکا ہے، اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے بہتان باندھا۔“ پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس پر عیب لگایا تو آپ نے فرمایا: ”میرا یہ لباس مجھے تکبر سے دور رکھنے والا اور مسلمانوں کے لیے میری پیروی کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسنٌ
تخریج حدیث «إسناده حسنٌ إن شاء الله من أجل شريك» [ترقيم الرساله 4738] [ترقيم الشركة 4712] [ترقيم العلميه 4687]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسنٌ إن شاء الله من أجل شريك - وهو ابن عبد الله النَّخعي - وإسماعيل بن موسى السُّدِّي، فهما صدوقان، والمرفوع في مقتل علي روي من وجوه عنه كما تقدَّم برقم (4641).
درجۂ حدیث: اس کی اسناد ان شاء اللہ "حسن" ہے شریک (بن عبداللہ النخعی) اور اسماعیل بن موسیٰ السدی کی وجہ سے، کیونکہ یہ دونوں "صدوق" ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں مرفوع روایت متعدد وجوہ سے مروی ہے جیسا کہ نمبر (4641) میں گزرا۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زوائده على "المسند" لأبيه 2/ (703) عن علي بن حكيم الأَودي، عن شريك النخعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے اپنے والد کی "مسند" کے زوائد (2/ 703) میں علی بن حکیم الاودی سے، از شریک النخعی، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4738 سے ماخوذ ہے۔