حدثَناه أبو بكر بن إسحاق ودَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا الأزرق بن علي، حدثنا حسان بن إبراهيم الكِرْماني، حدثنا محمد بن سلمة بن كُهيل، عن أبيه، عن أبي الطُّفيل عامر بن واثلة (1)، أنه سمع زيد ابن أرقَمَ يقول: نزلَ رسولُ الله ﷺ بين مكة والمدينة عند سَمُراتٍ خمس دَوحاتٍ عِظامٍ، فكَنَسَ الناسُ ما تحت السَّمُرات، ثم راح رسول الله ﷺ عشيّةً فصلّى، ثم قام خطيبًا، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، وذكّر ووَعَظ فقال ما شاء الله أن يقول، ثم قال: "أيُّها الناسُ، إني تاركٌ فيكم أمريَن لن تَضِلُّوا إن اتبعتُمُوهما: كتابَ اللهِ وأهلَ بيتي عِتْرَتي" ثم قال: "أتعلمُون أني أَولى بالمؤمنين من أنفسِهم؟ " ثلاث مرات، قالوا: نعم، فقال رسول الله ﷺ: "مَن كنتُ مَولاهُ فعليّ مَولاهُ" (2). وحديث بُريدة الأسلمي صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4577 - لم يخرجا لمحمد بن سلمة بن كهيل وقد وهاه السعدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4577 - لم يخرجا لمحمد بن سلمة بن كهيل وقد وهاه السعدي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان پانچ بڑے اور گھنے درختوں کے پاس پڑاؤ کیا، لوگوں نے ان درختوں کے نیچے کی جگہ صاف کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے شام کے وقت نماز پڑھائی اور خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، نصیحت و وعظ فرمایا اور جو اللہ نے چاہا وہ بیان کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم ان کی پیروی کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت یعنی میری عترت۔“ پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنین کی جانوں پر ان سے زیادہ حق (اولویت) رکھتا ہوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ”جس کا میں مولا (دوست و مددگار) ہوں، علی اس کا مولا ہے۔“
اور بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
اور بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نصر. وأخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري. وأخبرنا محمد بن عبد الله العُمري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى وأحمد بن يوسف، قالوا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن أبي غَنِيّة، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن بُريدة الأسلمي، قال: غزوتُ مع عليٍّ إلى اليمن، فرأيتُ منه جَفْوةً، فقدمتُ على رسول الله ﷺ، فذكرتُ عليًّا فتنقَّصْتُه، فرأيت وجهَ رسولِ الله ﷺ، يَتغيّر، فقال: "يا بُريدةُ، ألستُ أَولى بالمؤمنين من أنفُسهم؟ " قلت: بلى يا رسول الله، فقال: "من كنت مَولاهُ، فعليٌّ مَولاهُ" وذكر الحديثَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جنگ میں شرکت کی تو میں نے ان کی جانب سے (اپنے تئیں) کچھ سختی محسوس کی، پھر جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی کچھ شکایت کی، جس پر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بریدہ! کیا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق (اولویت) نہیں رکھتا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ”جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے۔“ اور اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثني أَبي ومحمد بن نُعيم، قالا: حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعي، عن يزيد الرِّشْك، عن مُطرِّف، عن عِمران بن حُصين قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ سريةً واستعملَ عليهم عليَّ بن أبي طالب، فمضى عليٌّ في السَّرِيّة فأصابَ جاريةً، فأنكَروا ذلك عليه، فتعاقدَ أربعةٌ من أصحاب رسول الله ﷺ إذا لَقِينا رسولَ الله ﷺ، أخبرناه بما صنعَ عليٌّ، قال: عِمران: وكان المسلمون إذا قدموا من سفر بدؤوا برسولِ الله ﷺ، فنظروا إليه وسلَّموا عليه، ثم ينصرفون إلى رِحالِهم، فلمَّا قَدِمَتِ السريّةُ سلَّمُوا على رسول الله ﷺ فقام أحدُ الأربعة، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ عليًّا صنعَ كذا وكذا، فأعرض عنه، ثم قام الثاني، فقال مثلَ ذلك، فأعرض عنه، ثم قام الثالث فقال مثلَ ذلك، فأعرض عنه، ثم قام الرابع، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ عليًّا صنعَ كذا وكذا، فأقبلَ عليه رسول الله ﷺ و الغضبُ في وجهه، فقال: "ما تُريدون من عليٍّ، إنَّ عليًّا مني وأنا منه، ووليُّ كلِّ مُؤمنٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر إسلام أمير المؤمنين عليّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4579 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر إسلام أمير المؤمنين عليّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4579 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مہم پر روانہ ہوئے اور انہوں نے (مالِ غنیمت میں سے) ایک لونڈی حاصل کی، جس پر صحابہ نے ان سے اختلاف کیا اور رسول اللہ ﷺ کے چار صحابہ نے باہم یہ عہد کیا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ سے ملیں گے تو آپ کو اس بارے میں بتائیں گے جو علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ سفر سے واپس آتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو سلام کرتے پھر اپنے ٹھکانوں کو جاتے، چنانچہ جب یہ لشکر واپس آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، پھر ان چاروں میں سے پہلا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ علی نے ایسا اور ایسا کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی بات کہی تو آپ ﷺ نے اس سے بھی اعراض فرمایا، پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی وہی بات کہی تو آپ ﷺ نے اس سے بھی اعراض فرمایا، پھر جب چوتھا شخص کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے بارے میں کیا چاہتے ہو؟ «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَوَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ ہر مومن کا ولی (سرپرست و دوست) ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔