المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ باب: جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نصر. وأخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري. وأخبرنا محمد بن عبد الله العُمري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى وأحمد بن يوسف، قالوا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن أبي غَنِيّة، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن بُريدة الأسلمي، قال: غزوتُ مع عليٍّ إلى اليمن، فرأيتُ منه جَفْوةً، فقدمتُ على رسول الله ﷺ، فذكرتُ عليًّا فتنقَّصْتُه، فرأيت وجهَ رسولِ الله ﷺ، يَتغيّر، فقال: "يا بُريدةُ، ألستُ أَولى بالمؤمنين من أنفُسهم؟ " قلت: بلى يا رسول الله، فقال: "من كنت مَولاهُ، فعليٌّ مَولاهُ" وذكر الحديثَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جنگ میں شرکت کی تو میں نے ان کی جانب سے (اپنے تئیں) کچھ سختی محسوس کی، پھر جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی کچھ شکایت کی، جس پر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بریدہ! کیا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق (اولویت) نہیں رکھتا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ”جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے۔“ اور اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین، ابن ابی غنیہ سے عبد الملک بن حمید الخزاعی اور الحکم سے ابن عتیبہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (22945)، والنسائي (8089) و (8413) من طريق أبي نُعيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22945) اور نسائی (8089، 8413) نے ابو نعیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم بنحوه برقم (2621) و (2622) من طريق عبد الله بن بُريدة عن أبيه.
نوٹ / توضیح: یہ (2621، 2622) عبد اللہ بن بریدہ عن ابیہ کے طریق سے اسی طرح گزر چکا ہے۔