کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس شخص کا ذکر جو تین چیزوں سے بچ گیا وہ واقعی بچ گیا
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم المصري، حدثني أبي وشعيب بن الليث، قالا: حَدَّثَنَا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن رَبيعة بن لَقِيط التُّجِيبي، عن عبد الله بن حَوَالة الأسَدي، عن رسول الله ﷺ، قال: "مَن نَجا من ثلاثٍ فقد نَجا" قالوا: ماذا يا رسول الله؟ قال: "مَوتي، وقتلِ خليفةٍ مُصطَبِرٍ بالحقِّ يُعطِيه، ومن الدّجّال" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4548 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4548 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن حوالہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص تین فتنوں سے بچ گیا وہ (حقیقت میں) نجات پا گیا،“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری وفات، حق پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنے والے اس خلیفہ کا قتل جو لوگوں کو ان کے حقوق دیتا ہو، اور فتنہ دجال۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا شَريك، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيةَ، قال: قال عبد الله: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ رَحَى الإسلام ستدُور بعد خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين أو سبعٍ وثلاثين سنةً، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ مَن هَلَك، وإن بقيَ لهم دينُهم يَقُمْ سبعين" قال عمر: يا نبي الله، بما مضى أو بما بقي؟ قال: "لا، بل بما بَقِي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه البيانُ الواضحُ لمقتل عثمانَ كما قدمتُ ذكرَه من تاريخ المقتل سنة خمسٍ وثلاثين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4549 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه البيانُ الواضحُ لمقتل عثمانَ كما قدمتُ ذكرَه من تاريخ المقتل سنة خمسٍ وثلاثين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4549 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی چکی پینتیس، چھتیس یا سینتیس سال بعد (فتنوں کے گرداب میں) گھومے گی، پس اگر وہ لوگ ہلاک ہوئے تو یہ ہلاک ہونے والوں کی راہ ہوگی اور اگر ان کا دین ان کے لیے باقی رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! یہ مدت گزرے ہوئے سالوں کے حساب سے ہے یا بقایا سالوں کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بقایا سالوں کے حساب سے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واضح بیان موجود ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ آپ کی شہادت کی تاریخ سن 35 ہجری ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واضح بیان موجود ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ آپ کی شہادت کی تاریخ سن 35 ہجری ہے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: الوليد بن عُقبة بن أبي مُعَيط بن عمرو بن أُمية بن عبد شَمس، وكان أخا عثمانَ لأمِّه، وأمُّهما أَروى بنت كُريز بن ربيعة بن عبد شمس، وأمُّها أمُّ حَكيم البيضاءُ بنت عبد المطلب بن عبد مَناف عمةُ رسول الله ﷺ، قَتَل النَّبِيّ ﷺ عُقبة بن أبي مُعَيط في رجوعه، وكان الوليد في زمن رسول الله ﷺ رجلًا، وكان يُكنى أبا وَهْبٍ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن اسحاق حربی سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط بن عمرو بن امیہ بن عبد شمس، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے، ان دونوں کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن عبد شمس تھیں، اور اروی کی والدہ ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب بن عبدمناف تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں، نبی کریم ﷺ نے (غزوہ بدر سے) واپسی پر عقبہ بن ابی معیط کو قتل کروایا تھا، جبکہ ولید رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک مردِ کامل (بالغ) تھے اور ان کی کنیت ابوہب تھی۔
حَدَّثَنَا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد ربّه (2) الجِرْجِسيّ (3)، حَدَّثَنَا محمد بن حرب، عن الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "أُريَ الليلةَ رجلٌ صالحٌ أنَّ أبا بكر نِيطَ برسُول الله، ونِيطَ عمرٌ بأبي بكرٍ، ونِيطُ عثمانُ بعمرَ"، فلما قُمْنا من عند رسول الله ﷺ قلنا: أما الرجلُ الصالحُ فرَسولُ الله ﷺ، وأما ما ذَكر من نَوْط بعضِهم ببعض، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بعثَ اللهُ به نبيَّه ﷺ (4). قال الدارمي: فسمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: محمد بن حَرْب يُسنِد هذا الحديثَ، والناسُ يُحدّثون به عن الزُّهْري مرسلًا (5)، إنما هو عُمر بن أبانَ، ولم يكن لأبان بن عثمان ابنٌ يقال له: عَمرو (6).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ایک صالح شخص کو خواب دکھایا گیا ہے کہ ابوبکر کو رسول اللہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر کے ساتھ، اور عثمان کو عمر کے ساتھ پیوستہ کر دیا گیا ہے،“ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ہم نے آپس میں کہا کہ وہ ”صالح شخص“ تو خود رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، اور جہاں تک ان کے ایک دوسرے سے پیوستہ ہونے کا ذکر ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہی وہ لوگ اس امرِ خلافت کے والی ہوں گے جسے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔
امام دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ محمد بن حرب اس حدیث کو مسنداً روایت کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اسے امام زہری سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، اور (سند میں) یہ عمر بن ابان ہیں کیونکہ ابان بن عثمان کے کسی بھی بیٹے کا نام عمرو نہیں تھا۔
امام دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ محمد بن حرب اس حدیث کو مسنداً روایت کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اسے امام زہری سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، اور (سند میں) یہ عمر بن ابان ہیں کیونکہ ابان بن عثمان کے کسی بھی بیٹے کا نام عمرو نہیں تھا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفان، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا أيوب، عن أبي قِلابَة، عن أبي الأَشْعَث، عن مُرّة بن كعب قال: سمعت رسول الله ﷺ يذكر فتنةً فقرَّبَها، فمرَّ به رجلٌ مُقنَّع فِي ثَوبٍ، فقال: "هذا يومئذٍ على الهُدى" فقمتُ إليه فإذا هو عثمانُ بن عفّان، فأقبلتُ إليه بوجهِه، فقلت: هو هذا؟ قال: "نعم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4552 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4552 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک فتنے کا ذکر فرماتے ہوئے سنا جس کے قریب ہونے کے متعلق آپ ﷺ بتا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص گزرا جس نے اپنا سر کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص اس دن (فتنے کے وقت) ہدایت پر ہو گا۔“ پس میں اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کا رخ (نبی کریم ﷺ کی طرف) کر کے پوچھا: کیا یہ وہی شخص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔