حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد ربّه (2) الجِرْجِسيّ (3)، حَدَّثَنَا محمد بن حرب، عن الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "أُريَ الليلةَ رجلٌ صالحٌ أنَّ أبا بكر نِيطَ برسُول الله، ونِيطَ عمرٌ بأبي بكرٍ، ونِيطُ عثمانُ بعمرَ"، فلما قُمْنا من عند رسول الله ﷺ قلنا: أما الرجلُ الصالحُ فرَسولُ الله ﷺ، وأما ما ذَكر من نَوْط بعضِهم ببعض، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بعثَ اللهُ به نبيَّه ﷺ (4). قال الدارمي: فسمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: محمد بن حَرْب يُسنِد هذا الحديثَ، والناسُ يُحدّثون به عن الزُّهْري مرسلًا (5)، إنما هو عُمر بن أبانَ، ولم يكن لأبان بن عثمان ابنٌ يقال له: عَمرو (6).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ایک صالح شخص کو خواب دکھایا گیا ہے کہ ابوبکر کو رسول اللہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر کے ساتھ، اور عثمان کو عمر کے ساتھ پیوستہ کر دیا گیا ہے،“ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ہم نے آپس میں کہا کہ وہ ”صالح شخص“ تو خود رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، اور جہاں تک ان کے ایک دوسرے سے پیوستہ ہونے کا ذکر ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہی وہ لوگ اس امرِ خلافت کے والی ہوں گے جسے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔
امام دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ محمد بن حرب اس حدیث کو مسنداً روایت کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اسے امام زہری سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، اور (سند میں) یہ عمر بن ابان ہیں کیونکہ ابان بن عثمان کے کسی بھی بیٹے کا نام عمرو نہیں تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتم
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4488) إذ تقدَّم الحديث ثمة من طريق موسى بن هارون البُردي عن محمد بن حرب.» [ترقيم الرساله 4601] [ترقيم الشركة 4577]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله، وضُبِّب فوقها في (ز)، وصوَّبناه من مصادر ترجمة المذكور، وقد تقدَّم اسمه على الصواب في إسناد حديث آخر عند المصنّف برقم (3423).
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" ہو گیا ہے، جسے ہم نے ترجمہ کے مصادر سے درست کیا ہے۔ مصنف کے ہاں حدیث (3423) میں یہ نام درست گزر چکا ہے۔
(3) كذلك وقعت هذه النسبة بكسر الجيمين في أصل "سير أعلام النبلاء" في ترجمة يزيد بن عبد ربِّه 10/ 667 وفي "أنساب السمعاني" وما تفرع عنه، منصوصًا عليه بضم الجيمين، والذي في أصل "السير" هو الأصح فيما يغلب على الظن، لأنَّ النسبة إلى كنيسة كانت بحمص وكان يزيد بن عبد ربه يسكن بقربها فنسب إليها، والظاهر أنَّ هذه الكنيسة سميت على اسم النَّبِيّ الذي كان يُعرف بجِرجِيس، كما ضُبط في "القاموس" وشرحه، بكسر الجيمين.
نوٹ / توضیح: (3) یہ نسبت "سیر اعلام النبلاء" (10/ 667) میں یزید بن عبد ربہ کے ترجمے میں جیم کے کسرہ (زیر) کے ساتھ آئی ہے، جبکہ "انساب السمعانی" وغیرہ میں جیم کے ضمہ (پیش) کے ساتھ منصوص ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ "السیر" والا ضبط (کسرہ کے ساتھ) زیادہ صحیح ہے، کیونکہ یہ حمص میں موجود ایک چرچ کی طرف نسبت ہے جس کے قریب یزید رہتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چرچ اس نبی کے نام پر تھا جسے "جِرجِیس" (جیم کے کسرہ کے ساتھ) کہا جاتا ہے، جیسا کہ "القاموس" اور اس کی شرح میں ضبط کیا گیا ہے۔
(4) إسناده محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4488) إذ تقدَّم الحديث ثمة من طريق موسى بن هارون البُردي عن محمد بن حرب.
درجۂ حدیث: (4) اس کی سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ نمبر (4488) پر بیان ہوا، وہاں یہ حدیث موسیٰ بن ہارون البردی عن محمد بن حرب کے طریق سے گزری تھی۔
وأخرجه أحمد 23 / (14821) عن يزيد بن عبد ربّه، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 14821) نے یزید بن عبد ربہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(5) تقدم الكلام على الاختلاف في إسناده برقم (4488)، وأنَّ الدارقطني رجَّح المتصل.
نوٹ / توضیح: (5) اس سند میں اختلاف پر کلام نمبر (4488) پر گزر چکا ہے، اور یہ کہ دارقطنی نے متصل کو ترجیح دی ہے۔
(6) كذا جزم ابن مَعِين بأنه ليس لأبان ولد يقال له: عمرو، مع أنه مذكور في كتب الأنساب أنَّ لأبان من الولد عُمرَ وعَمرًا، وانظر "جمهرة أنساب العرب" لابن حزم ص 85، وقد ذكره البخاريّ في "تاريخه الكبير" 6/ 315 فيمن اسمه عَمرو، وكذا ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 220.
نوٹ / توضیح: (6) ابن معین نے یقین سے کہا ہے کہ ابان کا "عمرو" نامی کوئی بیٹا نہیں تھا، حالانکہ انساب کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ابان کے بیٹوں میں عمر اور عمرو دونوں تھے۔ ابن حزم کی "جمہرہ انساب العرب" (صفحہ 85) دیکھیں۔ بخاری نے "تاریخ کبیر" (6/ 315) اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (6/ 220) میں اسے عمرو نام والوں میں ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4601 سے ماخوذ ہے۔