کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورج نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی شخص پر طلوع نہیں کیا
أخبرني محمد بن عبد الله الجَوهري، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا بِشر بن معاذ العَقَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود الواسطي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن ابن أخي محمد بن المُنكَدِر، عن عمِّه محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال عمر بن الخطاب ذاتَ يومٍ لأبي بكر الصِّدِّيق: يا خيرَ الناسِ بعدَ رسولِ الله ﷺ، فقال أبو بكر: أما إنَّكَ إنْ قلتَ ذاك، فلقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "ما طلعتِ الشمسُ على رجلٍ خيرٍ مِن عُمرَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں سب سے بہتر شخص! تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آگاہ رہو! اگر تم نے یہ کہا ہے تو (سنو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو عمر سے بہتر ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا أبو النضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، قال: قال عبد الله: إِنَّ أفرسَ الناسِ ثلاثةٌ: العزيزُ حين تَفرَّس في يوسف، فقال لامرأته: أكرِمي مَثواهُ، والمرأةُ التي رأت موسى، فقالت لأبيها: يا أبتِ استأجِرْه، وأبو بكر حين استخلَف عُمرَ (2). قال الحاكمُ: فرَضِيَ اللهُ عن ابن مسعود، لقد أحسنَ في الجمع بينهم بهذا الإسناد الصحيح. مقتلُ عمرَ ﵁ على الاختِصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4509 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4509 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح بصیرت اور فراست رکھنے والے تین لوگ ہیں: ایک عزیزِ مصر جب اس نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں اپنی فراست سے کام لیا اور اپنی بیوی سے کہا: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ﴾ [سورة يوسف: 21] ”انہیں عزت کے ساتھ رکھو“، دوسری وہ عورت جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا اور اپنے باپ سے کہا: ﴿يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ﴾ [سورة القصص: 26] ”اے میرے باپ! آپ انہیں کام پر رکھ لیں“، اور تیسرے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین (خلیفہ) نامزد کیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابن مسعود سے راضی ہو، انہوں نے اس صحیح سند کے ساتھ ان (تینوں واقعات) کو کیا ہی عمدہ جمع فرمایا ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مختصر ذکر)۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابن مسعود سے راضی ہو، انہوں نے اس صحیح سند کے ساتھ ان (تینوں واقعات) کو کیا ہی عمدہ جمع فرمایا ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مختصر ذکر)۔