حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا أبو بكر محمد بن النضر بن سَلَمة بن الجارود، حدّثني الزُّبير بن بَكَّار، حدّثني يحيى بن المقدام، عن عمّه موسى بن يعقوب، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْرِي، أَنَّ عُروة بن الزُّبير والقاسم بن محمد بن أبي بكر وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام وعبيدَ الله بن عبد الله بن عتُبْة كلّهم يُخبره عن عائشة زوج النبي: أن رسول الله ﷺ بَدَأَهُ مرضُه الذي مات فيه في بيت ميمونة فخرج عاصِبًا رأسه، فدخل عليّ بين رجُلَين تَخُطُّ رِجلاهُ الأرضَ، عن يمينِه العباسُ، وعن يسارِه رجلٌ. قال عُبيد الله: أخبرني ابن عبّاس أن الذي عن يسارِه عليٌّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد ذكرتُ فيما تقدّم اختلافَ الصحابةِ في مَبلَغِ سِنِّ رسولِ الله ﷺ يومَ تُوفِّي فيه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد ذكرتُ فيما تقدّم اختلافَ الصحابةِ في مَبلَغِ سِنِّ رسولِ الله ﷺ يومَ تُوفِّي فيه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کی ابتدا جس میں آپ کا وصال ہوا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی، پھر آپ سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے باہر نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے (میرے گھر) تشریف لائے جبکہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، آپ کے دائیں جانب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں جانب ایک اور صاحب تھے، عبید اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ بائیں جانب والے صاحب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اس سے پہلے وفات کے دن رسول اللہ ﷺ کی عمر کے متعلق صحابہ کے اختلاف کا ذکر کر دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اس سے پہلے وفات کے دن رسول اللہ ﷺ کی عمر کے متعلق صحابہ کے اختلاف کا ذکر کر دیا ہے۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدَّثنا أبي وشعيب بن الليث بن سعد عن الليث، عن يزيد بن الهادِ، عن موسى بن سَرْجِسَ، عن القاسم، عن عائشة، قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يموتُ وعندَه قَدَحٌ فيه ماءٌ، يُدخِلُ يدَه في القَدَح ثم يمسحُ وجهَه بالماءِ، ثم يقول: "اللهمَّ أعِنِّي على سَكْرة المَوتِ" (1). صحيحُ الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4386 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4386 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وصال کے وقت دیکھا کہ آپ کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں پانی تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالے میں ڈالتے پھر اس سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح کرتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكْرَةِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا الحُسين بن علي بن عبد الصمد البَزّاز الفارسي، حدَّثنا محمد بن عبد الأعلى الصَّنْعاني، حدَّثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ كان آخرَ ما تَكَلَّم به: "جلالُ ربِّي الرفيعُ، فقد بَلَّغْتُ، ثم قَضَى ﷺ (1).
هذا حديث صحيحُ الإسناد، إلَّا أنَّ هذا الفارسيَّ واهِمٌ فيه على محمد بن عبد الأعلى:
هذا حديث صحيحُ الإسناد، إلَّا أنَّ هذا الفارسيَّ واهِمٌ فيه على محمد بن عبد الأعلى:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری کلام یہ تھا: «جَلَالُ رَبِّي الرَّفِيعُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ» ”میرے بلند و برتر رب کی بزرگی ہے، میں نے (پیغام) پہنچا دیا“، پھر آپ ﷺ کی روح قبض ہو گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس سند کے راوی فارسی کو محمد بن عبد الاعلیٰ کے حوالے سے وہم ہوا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس سند کے راوی فارسی کو محمد بن عبد الاعلیٰ کے حوالے سے وہم ہوا ہے۔