المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
ذِكْرُ مَرَضِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ باب: نبی کریم ﷺ کی بیماری اور وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 4434
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدَّثنا أبي وشعيب بن الليث بن سعد عن الليث، عن يزيد بن الهادِ، عن موسى بن سَرْجِسَ، عن القاسم، عن عائشة، قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يموتُ وعندَه قَدَحٌ فيه ماءٌ، يُدخِلُ يدَه في القَدَح ثم يمسحُ وجهَه بالماءِ، ثم يقول: "اللهمَّ أعِنِّي على سَكْرة المَوتِ" (1). صحيحُ الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4386 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وصال کے وقت دیکھا کہ آپ کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں پانی تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالے میں ڈالتے پھر اس سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح کرتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكْرَةِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة موسى بن سَرْجِس وقد تقدَّم برقم (3773) من طريق قتيبة: ابن سعيد عن الليث.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے جس کی وجہ موسیٰ بن سرجس کی جہالت ہے۔ یہ روایت (نمبر 3773) پر قتیبہ بن سعید > لیث کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے جس کی وجہ موسیٰ بن سرجس کی جہالت ہے۔ یہ روایت (نمبر 3773) پر قتیبہ بن سعید > لیث کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4434 سے ماخوذ ہے۔