المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
ذِكْرُ مَرَضِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ باب: نبی کریم ﷺ کی بیماری اور وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 4435
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا الحُسين بن علي بن عبد الصمد البَزّاز الفارسي، حدَّثنا محمد بن عبد الأعلى الصَّنْعاني، حدَّثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ كان آخرَ ما تَكَلَّم به: "جلالُ ربِّي الرفيعُ، فقد بَلَّغْتُ، ثم قَضَى ﷺ (1).
هذا حديث صحيحُ الإسناد، إلَّا أنَّ هذا الفارسيَّ واهِمٌ فيه على محمد بن عبد الأعلى:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری کلام یہ تھا: «جَلَالُ رَبِّي الرَّفِيعُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ» ”میرے بلند و برتر رب کی بزرگی ہے، میں نے (پیغام) پہنچا دیا“، پھر آپ ﷺ کی روح قبض ہو گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس سند کے راوی فارسی کو محمد بن عبد الاعلیٰ کے حوالے سے وہم ہوا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة الحسين - وسماه البيهقيّ في روايتين في "الدلائل": الحَسَن - بن علي بن عبد الصمد، فلم يرو عنه غير أحمد بن كامل القاضي وعبد الباقي بن قانع، ولم يؤثر فيه جرح ولا تعديل، والظاهر أنه وهمَ فيه، لأنَّ سليمان التيمي والد المعتمر قد روى عن أنس في الرواية التالية خلاف ما في هذه الرواية، كما نبَّه عليه المصنف، ولأنَّ محمد بن عبد الأعلى يروي كتاب "سيرة رسول الله ﷺ " كما في "فهرسة ابن خير الإشبيلي" (419) عن المعتمر بن سليمان عن أبيه سليمان بن طَرْخان التيمي صاحب الكتاب المذكور، وهو كتاب مشهور عند أهل المغازي والسير، فلو صحَّ ذلك في كتاب سليمان التيمي لَنَقلَه غير واحد عن محمد بن عبد الأعلى، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسین بن علی بن عبدالصمد کی جہالت کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے (بیہقی نے الدلائل میں دو روایات میں ان کا نام ’’الحسن‘‘ لکھا ہے)۔ ان سے احمد بن کامل القاضی اور عبدالباقی بن قانع کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور ان کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل منقول نہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہے کہ ان سے وہم ہوا ہے، کیونکہ سلیمان التیمی (معتمر کے والد) نے انس سے اگلی روایت میں اس روایت کے خلاف بیان کیا ہے جیسا کہ مصنف نے تنبیہ کی۔ نیز محمد بن عبدالاغلیٰ کتاب ’’سیرت رسول اللہ ﷺ‘‘ (جیسا کہ ابن خیر الاشبیلی کی فہرست: 419 میں ہے) کو معتمر بن سلیمان > ان کے والد سلیمان بن طرخان التیمی (صاحبِ کتاب) سے روایت کرتے ہیں۔ یہ کتاب اہل مغازی اور سیر کے ہاں مشہور ہے، اگر یہ بات سلیمان التیمی کی کتاب میں صحیح ہوتی تو اسے محمد بن عبدالاغلیٰ سے کئی راوی نقل کرتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: العنبري.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’’العنبری‘‘ بن گیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسین بن علی بن عبدالصمد کی جہالت کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے (بیہقی نے الدلائل میں دو روایات میں ان کا نام ’’الحسن‘‘ لکھا ہے)۔ ان سے احمد بن کامل القاضی اور عبدالباقی بن قانع کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور ان کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل منقول نہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہے کہ ان سے وہم ہوا ہے، کیونکہ سلیمان التیمی (معتمر کے والد) نے انس سے اگلی روایت میں اس روایت کے خلاف بیان کیا ہے جیسا کہ مصنف نے تنبیہ کی۔ نیز محمد بن عبدالاغلیٰ کتاب ’’سیرت رسول اللہ ﷺ‘‘ (جیسا کہ ابن خیر الاشبیلی کی فہرست: 419 میں ہے) کو معتمر بن سلیمان > ان کے والد سلیمان بن طرخان التیمی (صاحبِ کتاب) سے روایت کرتے ہیں۔ یہ کتاب اہل مغازی اور سیر کے ہاں مشہور ہے، اگر یہ بات سلیمان التیمی کی کتاب میں صحیح ہوتی تو اسے محمد بن عبدالاغلیٰ سے کئی راوی نقل کرتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: العنبري.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’’العنبری‘‘ بن گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4435 سے ماخوذ ہے۔