حدَّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدَّثنا إسحاق بن بِشْر الكاهِلي، حدَّثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حَفْصة، عن جُميع بن عُمير اللَّيثي، قال: أتيتُ عبد الله بن عمر فسألتُه عن عليٍّ فانتَهرَني، ثم قال: ألا أُحدِّثك عن عليّ: هذا بيتُ رسولِ الله ﷺ في المسجدِ، وهذا بيت عليٍّ، إنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَ أبا بكر وعُمر ببراءةَ إلى أهلِ مكة، فانطلقا، فإذا هما براكِبٍ، فقالا: مَن هذا؟ قال: أنا عليٌّ، فقال: يا أبا بكر، هاتِ الكتابَ الذي معك، قال أبو بكر: وما لي يا عليّ؟! قال: والله ما عَلِمتُ إِلَّا خيرًا، فأخذ عليٌّ الكتابَ فذهبَ به، ورجعَ أبو بكر وعُمر إلى المدينة، فقالا: ما لنا يا رسول الله؟! قال: "ما لكما إِلَّا خيرٌ، ولكن قيل لي: إنه لا يُبلِّغُ عنك إلَّا أنت أو رجلٌ منك" (1).
هذا حديث شاذٌّ والحَمْلُ فيه على جُميع بن عُمير، وبعده على إسحاق بن بِشْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4374 - شاذ
هذا حديث شاذٌّ والحَمْلُ فيه على جُميع بن عُمير، وبعده على إسحاق بن بِشْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4374 - شاذ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے ان سے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے جھڑکا، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں علی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کا گھر ہے اور یہ علی رضی اللہ عنہ کا گھر ہے، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو سورہ براءت دے کر اہل مکہ کی طرف روانہ کیا، وہ چل پڑے تو انہوں نے ایک سوار کو دیکھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں علی ہوں، علی نے کہا: اے ابوبکر! وہ تحریر (خط) لائیے جو آپ کے پاس ہے، ابوبکر نے پوچھا: اے علی! کیا میرے متعلق کچھ ہوا ہے؟ علی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو خیر ہی جانتا ہوں، پس علی رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر لی اور اسے لے کر چلے گئے، جبکہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مدینہ واپس آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے خیر ہی ہے، لیکن مجھے یہ کہا گیا ہے کہ تمہاری طرف سے (یہ پیغام) صرف تم خود یا تمہارا ہی کوئی آدمی پہنچائے گا۔“
یہ حدیث شاذ ہے اور اس کی کمزوری کا باعث جمیع بن عمیر اور اس کے بعد اسحاق بن بشر ہیں۔
یہ حدیث شاذ ہے اور اس کی کمزوری کا باعث جمیع بن عمیر اور اس کے بعد اسحاق بن بشر ہیں۔
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمري، حدَّثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدَّثنا عَبّاد بن العوام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ أبا بكر، وأمرَه أن يُنادي بهؤلاءِ الكَلِمات، فأتبَعَه عليًّا، فبَيْنا أبو بكر ببعضِ الطريق إذ سمع رُغاءَ ناقةِ رسولِ الله ﷺ، فخرج أبو بكر فَزِعًا، فظنَّ أنه رسولُ الله ﷺ، فإذا عليٌّ، فدفع إليه كتابَ رسولِ الله ﷺ قد أمَّرَه على المَوسِم، وأمَر عليًّا أن يُناديَ بهؤلاء الكَلِمات، فقام عليٌّ في أيام التَّشريق فنادَى ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾، لا يَحُجَّنَّ بعد العامِ مُشرِكٌ، ولا يَطُوفَنَّ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يدخلُ الجنةَ إِلَّا مؤمنٌ، فكان عليٌّ يُنادي بها، فإذا بُحَّ قام أبو هُريرة فنادَى (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّتِ الروايةُ عن عَليٍّ بشَرْح هذا النِّداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں ان کلمات کے ساتھ منادی کا حکم دیا، پھر ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، ابوبکر ابھی راستے ہی میں تھے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے بلبلانے کی آواز سنی، وہ گھبرا کر نکلے کہ شاید رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں، مگر وہ علی تھے، علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی تحریر دی جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج مقرر کیا گیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کو ان کلمات کی منادی کا حکم دیا گیا تھا، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ایامِ تشریق میں کھڑے ہو کر پکارا: ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] ”بے شک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں“، اور ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾ [سورة التوبة: 2] ”پس تم زمین میں چار مہینے تک چل پھر لو“، نیز یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور جنت میں سوائے مؤمن کے کوئی داخل نہ ہوگا، علی رضی اللہ عنہ یہ منادی کرتے رہے اور جب ان کی آواز بیٹھ جاتی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پکارتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذ، قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، حدّثني أبو إسحاق الهَمْداني، عن زيد بن يُثَيع، قال: سألْنا عليًّا: بأي شيء بُعثتَ في الحَجَّةِ؟ قال: بُعثتُ بأربعٍ: لا يَدخُلُ الجنةَ إِلَّا نفسٌ مُؤمنةٌ، ولا يَطُوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يَجتمعُ مؤمنٌ وكافرٌ في المسجدِ الحَرام بعد عامِهم هذا، ومن كان بينَه وبين النبي ﷺ عهدٌ فعهدُه إلى مُدّتِه، ومن لم يكن له عهدٌ فأجلُه أربعةُ أشهرٍ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4376 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4376 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
زید بن یثیع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو اس حج میں کس بات کے ساتھ بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: مجھے چار باتوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا: یہ کہ جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوگا، کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اس سال کے بعد مؤمن اور کافر مسجد حرام میں جمع نہیں ہوں گے، اور جس کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی عہد ہے تو وہ اس کی مدت تک برقرار رہے گا اور جس کا کوئی عہد نہیں اس کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔