المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
نِدَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَوْسِمِ الْحَجِّ بِبَرَاءَةٍ باب: حج کے موقع پر حضرت علیؓ کا سورۂ براءت کا اعلان کرنا
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمري، حدَّثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدَّثنا عَبّاد بن العوام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ أبا بكر، وأمرَه أن يُنادي بهؤلاءِ الكَلِمات، فأتبَعَه عليًّا، فبَيْنا أبو بكر ببعضِ الطريق إذ سمع رُغاءَ ناقةِ رسولِ الله ﷺ، فخرج أبو بكر فَزِعًا، فظنَّ أنه رسولُ الله ﷺ، فإذا عليٌّ، فدفع إليه كتابَ رسولِ الله ﷺ قد أمَّرَه على المَوسِم، وأمَر عليًّا أن يُناديَ بهؤلاء الكَلِمات، فقام عليٌّ في أيام التَّشريق فنادَى ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾، لا يَحُجَّنَّ بعد العامِ مُشرِكٌ، ولا يَطُوفَنَّ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يدخلُ الجنةَ إِلَّا مؤمنٌ، فكان عليٌّ يُنادي بها، فإذا بُحَّ قام أبو هُريرة فنادَى (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّتِ الروايةُ عن عَليٍّ بشَرْح هذا النِّداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں ان کلمات کے ساتھ منادی کا حکم دیا، پھر ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، ابوبکر ابھی راستے ہی میں تھے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے بلبلانے کی آواز سنی، وہ گھبرا کر نکلے کہ شاید رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں، مگر وہ علی تھے، علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی تحریر دی جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج مقرر کیا گیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کو ان کلمات کی منادی کا حکم دیا گیا تھا، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ایامِ تشریق میں کھڑے ہو کر پکارا: ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] ”بے شک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں“، اور ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾ [سورة التوبة: 2] ”پس تم زمین میں چار مہینے تک چل پھر لو“، نیز یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور جنت میں سوائے مؤمن کے کوئی داخل نہ ہوگا، علی رضی اللہ عنہ یہ منادی کرتے رہے اور جب ان کی آواز بیٹھ جاتی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پکارتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "حکم" سے مراد حکم بن عتیبہ ہیں، اور "مقسم" سے مراد مقسم بن بجرہ (جنہیں ابن نجدہ بھی کہا جاتا ہے) ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3091) من طريق سعيد بن سليمان الواسطي، عن عباد بن العوّام، بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3091) نے سعید بن سلیمان واسطی از عباد بن العوام کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (4702).
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے آگے آنے والی حدیث نمبر (4702) ملاحظہ فرمائیں۔