کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عبد اللہ بن ابی سرح کا حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لینا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کی سفارش کرنا
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا أبو داود سليمان بن الأَشْعث، حدَّثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدّثني أحمد بن المفضّل، حدَّثنا أسباطُ ابن نَصْر، قال: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عن مُصعب بن سَعْد، عن سعدٍ قال: لما كان يومُ فتح مَكةَ اختَبأ عبدُ الله بن سَعْد بن أبي سَرْحٍ عند عثمان بن عفان، فجاءَ به حتى أوقَفَه على النبيّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، بايعْ عبدَ الله، فرفع رأسَه فنَظَر إليه ثلاثًا، ثم أقبَلَ على أصحابِه، فقال: "أما كان فيكُم رجلٌ رَشِيدٌ يقومُ إلى هذا حين رآني كَفَفْتُ يدي عن بَيعَتِه فيَقْتُلَه؟ " فقالوا: ما نَدري يا رسول الله ما في نفسك، ألَا أَومأْتَ إلينا بعَينِك؟ فقال: "إنه لا يَنبَغي لِنبي أن تكون له خائنةُ الأَعيُنِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب مکہ کی فتح کا دن تھا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر سیدنا عثمان اسے لے کر آئے اور اسے نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجیے، آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور تین بار اس کی طرف دیکھا، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی ایسا نہ تھا جو اس وقت کھڑا ہوتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس سے بیعت لینے کے لیے اپنا ہاتھ روک لیا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے، آپ نے ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ اس کی آنکھیں خائن یعنی اشارہ کرنے والی ہوں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثناه بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدَّثنا إبراهيم بن هلال، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحُسين بن واقِد، عن يزيد النَّحوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عبدُ الله بن أبي سَرْح يكتب لرسولِ الله ﷺ، فأزلَّه الشيطان فلَحِقَ بالكُفّار، فأمر به رسولُ الله ﷺ أن يُقتل، فاستجارَ له عثمانُ فأجارَه رسولُ الله ﷺ (2). صحيح على شرط البخاريّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح رسول اللہ ﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتے تھے، پھر شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کر دیا اور وہ کافروں سے جا ملے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پناہ دے دی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني شُرَحْبيل بن سَعْد، قال: نزلتْ في عبد الله بن أبي سَرْحٍ: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [الأنعام: 93]، فلما دخَلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ فَرَّ إلى عثمان بن عفان، وكان أخاه من الرَّضاعة، فَغَيَّبه عنده حتى اطمأن أهل مكة، ثم أتى به رسول الله ﷺ فاستأمَنَ (1). قال الحاكم: قد صحّتِ الرواية في الكتابَين (2) أنَّ رسول الله ﷺ أمرَ قبلَ دخولِه مكةَ بقتلِ عبد الله بن سَعْد وعبد الله بن خَطَل، فمن نَظَر في مَقتَل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان وجِنايات عبد الله بن سَعْد عليه بمصر إلى أن كان من أمرِه ما كان، عَلِمَ أَنَّ النبيّ ﷺ كان أعرفَ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ ”اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا یہ کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو، اور جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کر دوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے“ [سورة الأنعام: 93]، پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف بھاگ گیا، وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے اسے اپنے پاس چھپائے رکھا یہاں تک کہ اہل مکہ کو اطمینان ہو گیا، پھر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے اور انہوں نے امان طلب کی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پس جو شخص امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور مصر میں عبداللہ بن سعد کی ان کے خلاف کی گئی زیادتیوں پر نظر ڈالے گا یہاں تک کہ ان کا جو انجام ہوا سو ہوا، وہ جان لے گا کہ نبی کریم ﷺ ان (کے شر) سے سب سے زیادہ واقف تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پس جو شخص امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور مصر میں عبداللہ بن سعد کی ان کے خلاف کی گئی زیادتیوں پر نظر ڈالے گا یہاں تک کہ ان کا جو انجام ہوا سو ہوا، وہ جان لے گا کہ نبی کریم ﷺ ان (کے شر) سے سب سے زیادہ واقف تھے۔