حدیث نمبر: 4409
حدثناه بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدَّثنا إبراهيم بن هلال، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحُسين بن واقِد، عن يزيد النَّحوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عبدُ الله بن أبي سَرْح يكتب لرسولِ الله ﷺ، فأزلَّه الشيطان فلَحِقَ بالكُفّار، فأمر به رسولُ الله ﷺ أن يُقتل، فاستجارَ له عثمانُ فأجارَه رسولُ الله ﷺ (2). صحيح على شرط البخاريّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح رسول اللہ ﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتے تھے، پھر شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کر دیا اور وہ کافروں سے جا ملے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پناہ دے دی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4409
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال» [ترقيم الرساله 4409] [ترقيم الشركة 4386] [ترقيم العلميه 4361]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال - وهو ابن عمر البُوزَنْجِرْدي - وقد توبع فيما تقدم برقم (3401). والحسين بن واقد قوي الحديث.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "قوی" ہے اور سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے حسن ہونے کی وجہ ابراہیم بن ہلال (ابن عمر البوزنجردی) ہیں، جن کی متابعت نمبر (3401) پر گزر چکی ہے۔ اور حسین بن واقد قوی الحدیث ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4409 سے ماخوذ ہے۔