المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
شَهَادَةُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ وَدُخُولُهُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَاةً باب: حضرت عمرو بن قیسؓ کی شہادت اور بغیر نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
حدیث نمبر: 4364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه قال: سمعت رسول الله ﷺ إِذا ذَكَرَ أصحابَ أُحدٍ يقول: "أما واللهِ لَوَدِدتُ أني غُودِرتُ مع أصحابي نُحْصَ الجبل"، يقول: قُتِلتُ معهم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب بھی احد کے ساتھیوں کا تذکرہ کرتے سنا تو آپ ﷺ یہی فرماتے تھے: ”اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا تھی کہ میں بھی اپنے صحابہ کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں چھوڑ دیا جاتا (یعنی وہیں شہید ہو جاتا)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق. وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2438).
درجۂ حدیث: اس کی سند ابن اسحاق کی وجہ سے حسن ہے، اور یہ گزشتہ حدیث نمبر (2438) کا مکرر ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ابن اسحاق کی وجہ سے حسن ہے، اور یہ گزشتہ حدیث نمبر (2438) کا مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4364 سے ماخوذ ہے۔