کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کا بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہؓ سے مشورہ کرنا
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرة، عن أبي عُبيدة بن عبد الله، عن أبيه قال: لما كان يوم بدر قال لهم رسول الله ﷺ: "ما تقولونَ في هؤلاء الأسارى؟ " فقال عبد الله بن رواحة: ايتِ في وادٍ كثير الحطب فأضرم نارًا، ثم ألْقِهِم فيها، فقال العباس: قَطَعَ الله رحمك، فقال عمرُ: قادتهم ورُؤَسَاؤُهم قاتَلُوك وكَذَّبوك، فاضرب أعناقَهُم نَعِزَّ (1)، فقال أبو بكر: عشيرتُك وقومك، ثم دخل رسول الله ﷺ لبعض حاجتِه، فقالت طائفةٌ: القول ما قال عمر، قال: فخرج رسول الله ﷺ فقال: "ما تَقُولُون في هؤلاء؟ إِنَّ مَثَل هؤلاء كمَثَل إخوةٍ لهم كانوا من قبلهم، قال نوحٌ: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [نوح:26]، وقال موسى: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ الآية [يونس:88]، وقال إبراهيم: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [إبراهيم: 36]، وقال عيسى: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (118)﴾ [المائدة: 118]، وأنتم قوم بكم عَيْلةٌ فلا ينفلتنَّ أحدٌ منهم (2) إِلَّا بِفِداءٍ أو بضربة عُنق"، قال عبد الله: فقلتُ: إلَّا سُهيل ابنَ بَيضاءَ، فإنه لا يُقتل، وقد سمعته يتكلّم بالإسلام، فسكت، فما كان يومٌ أخوفَ عندي أن تُلقى عليّ حجارةٌ من السماء من يومي ذلك، حتى قال رسول الله ﷺ: "إلَّا سهيل بن بَيضاءَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4304 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4304 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کا موقع تھا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: ”تم ان قیدیوں کے متعلق کیا کہتے ہو؟“ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی وادی میں تشریف لے جائیں جہاں لکڑیاں کثرت سے ہوں، پھر وہاں آگ دہکائیں اور ان سب کو اس میں ڈال دیں“، اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تمہارا رشتہ کاٹ دے (یعنی تم نے اپنے ہی عزیزوں کے بارے میں اتنی سخت بات کہہ دی)“، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ کفر کے پیشوا اور ان کے سردار ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا اور آپ کو جھٹلایا، لہذا ان کی گردنیں مار دیں تاکہ ہمیں غلبہ حاصل ہو“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ آپ کا کنبہ اور آپ ہی کی قوم ہے (لہذا نرمی برتیں)“، پھر رسول اللہ ﷺ اپنی کسی ضرورت کے لیے تشریف لے گئے تو صحابہ کے ایک گروہ نے کہا: ”بات وہی ٹھیک ہے جو عمر نے کہی ہے“، راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ دراصل ان کی مثال ان کے ان بھائیوں جیسی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؛ نوح علیہ السلام نے (کفار کے حق میں) کہا تھا: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ ”اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی ایک کو بھی بستا ہوا نہ چھوڑ“ [سورة نوح: 26]، اور موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ ”اے ہمارے رب! ان کے مال مٹا دے اور ان کے دلوں پر سختی کر دے“ [سورة يونس: 88]، جبکہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ”پس جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک تو بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے“ [سورة إبراهيم: 36]، اور عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے“ [سورة المائدة: 118]، (پھر آپ ﷺ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا:) چونکہ تم لوگ اس وقت تنگدست «عيلة» ہو، لہذا ان میں سے کوئی بھی قیدی فدیہ لیے بغیر یا گردن مارے بغیر نہ چھوڑا جائے“، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ اسے قتل نہ کیا جائے، میں نے اسے اسلام کے حق میں بات کرتے سنا ہے“، تب آپ ﷺ خاموش رہے، ابن مسعود کہتے ہیں کہ اس لمحے مجھے جتنا خوف محسوس ہوا اتنا کبھی نہیں ہوا تھا، میں ڈر رہا تھا کہ (آپ ﷺ کے فیصلے کے دوران اپنی رائے دینے کی وجہ سے) کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سوائے سہیل بن بیضاء کے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبد الله بن أبي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أسعد بن زُرارة، عن جده، قال: قُدِمَ بالأُسارى حين قُدِمَ بهم المدينةَ وسَوْدةُ بنت زَمْعة زوج النبي ﷺ عند آل عَفْراء في صِيَاحِهم (1) على عوف ومُعوِّذٍ ابنَي عَفْراء، وذلك قبل أن يُضرب عليهنّ الحجاب، قالت سودة: فوالله إني لَعِندَهم إذ أُتينا فقيل: هؤلاء الأُسارى قد أُتي بهم، فرجعت إلى بيتي ورسول الله ﷺ فيه، فإذا أبو يزيد سُهيل بن عمرو في ناحيةِ الحُجْرة مجموعتان يَداهُ إلى عنقه بحَبْل، فوالله ما مَلَكتُ حين رأيتُ أبا يزيد كذلك أن قلتُ: أي أبا يزيد، أعطَيْتُم بأيدِيكُم! ألا مُتُّم كِرامًا، فما انتهيت إلا بقول رسول الله ﷺ من البيت: "يا سودة، على الله وعلى رسوله؟! " فقلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما مَلَكْتُ حين رأيتُ أبا يزيد مجموعةً يَداهُ إلى عنقه بالحبل أن قلتُ ما قلت (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخان على إخراج حديث محمد بن فُليح عن موسى بن عُقبة عن ابن شهاب قال: حدثنا أنس بن مالك: أنَّ رجالًا من الأنصار استأذَنُوا رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، ائذن لنا فلْنَتْرُك لا بن أُختِنا العباس فداءه، فقال: "والله لا تَذَرُونَ درهما" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4305 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخان على إخراج حديث محمد بن فُليح عن موسى بن عُقبة عن ابن شهاب قال: حدثنا أنس بن مالك: أنَّ رجالًا من الأنصار استأذَنُوا رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، ائذن لنا فلْنَتْرُك لا بن أُختِنا العباس فداءه، فقال: "والله لا تَذَرُونَ درهما" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4305 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب (بدر کے) قیدیوں کو مدینہ لایا گیا تو میں اس وقت آلِ عفراء کے ہاں ان کے بیٹوں عوف اور معوذ کی وفات پر تعزیت کے لیے موجود تھی، اور یہ پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ سودہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں وہیں تھی جب ہمیں خبر ملی کہ قیدی لائے جا چکے ہیں، چنانچہ میں اپنے گھر آئی جہاں رسول اللہ ﷺ موجود تھے، میں نے دیکھا کہ ابو یزید سہیل بن عمرو کمرے کے ایک کونے میں ہے اور اس کے ہاتھ رسی سے گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے جب اسے اس حالت میں دیکھا تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور کہا: ”اے ابو یزید! تم لوگوں نے اتنی آسانی سے قید قبول کر لی؟ تم عزت کی موت کیوں نہ مر گئے!“ تب رسول اللہ ﷺ نے گھر کے اندر سے آواز دی: ”اے سودہ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اکسا رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں نے جب اسے اس حال میں دیکھا تو بے اختیار ہو کر یہ کہہ دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین نے اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انصار کے کچھ مردوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین نے اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انصار کے کچھ مردوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔“