کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت زینبؓ کا اپنے شوہر ابو العاص کے فدیہ میں مال بھیجنا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بَعَثَ أهل مكة في فداء أُساراهم، بَعَثَت زينب بنتُ رسول الله ﷺ في فداء أبي العاص بمالٍ، وبعثت فيه بقلادة كانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بنى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقّةً شديدة، وقال: "إن رأيتُم أن تُطلِقُوا لها أسيرها، وتَرُدُّوا عليها الذي لها". وكان رسول الله ﷺ قد أَخَذَ عليه ووَعَدَ رسول الله ﷺ أَن يُخْلِيَ زينبَ إليه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4306 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4306 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے کے لیے مال بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے (اپنے شوہر) ابوالعاص کے فدیے کے لیے کچھ مال بھیجا جس میں وہ ہار بھی تھا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے زینب کی شادی کے وقت انہیں دیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے وہ ہار دیکھا تو آپ ﷺ کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا اور آپ ﷺ پر شدید رقت طاری ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم بہتر سمجھو تو زینب کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا تھا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب کو آپ ﷺ کے پاس (مدینہ) بھیج دیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، عن معاوية بن صالح، عن علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس، في قوله ﷿: ﴿إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ﴾ [الأنفال: 41] يعني بالفُرقان: يومَ بدرٍ، يومَ فَرَقَ اللهُ بين الحقِّ والباطل (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4307 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4307 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: «الفُرقان» سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔