حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المُثنَّى معاذ بن المثنى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: كنا يوم بدر كل ثلاثةٍ على بعيرٍ، قال: وكان عليٌّ وأبو لُبابة زَمِيلي رسول الله ﷺ، قال: وكان إذا كانت عُقْبتُه قلنا: اركَبْ حتى نمشي، فيقول: "ما أنتما بأقوى مِنِّي، وما أنا بأغنى عن الأجر مِنكُم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”غزوہ بدر کے دن ہم میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے، سیدنا علی اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے باری کے ساتھی تھے، راوی کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کے پیدل چلنے کی باری آتی تو وہ دونوں عرض کرتے: آپ سوار رہیں اور ہم پیدل چلتے ہیں، تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے: ”تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں اجر و ثواب حاصل کرنے میں تم دونوں سے بے نیاز ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسين بن يعقوب الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عبد الله، في ليلة القدر، قال: تَحرَّوها لإحدى عشرة يَبقَين، صبيحتُها يوم بدرٍ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4300 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4300 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اسے (رمضان کی) آخری گیارہ راتوں میں تلاش کرو، جس کی صبح غزوہ بدر کا دن تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو إسحاق وأبو الحسين، قالا: حدثنا محمد، حدثنا قُتيبة، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي إسحاق، عن الأسود، عن عبد الله، قال: التَمِسُوها - ليلة القدر - لتسعَ عشرةَ؛ صَبيحة يوم بَدْرٍ؛ ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ [الأنفال: 41] (1).
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4301 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4301 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم لیلۃ القدر کو (رمضان کی) انیسویں تاریخ میں تلاش کرو، جس کی صبح غزوہ بدر کا دن تھا، یعنی ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ ”جس دن حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن تھا جس دن دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہوئی تھیں۔“ [سورة الأنفال: 41]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، حدثنا عبد الملك بن إبراهيم الجُدِّي، حدثنا شُعبة، عن أبي إسحاق الهَمْداني، قال: سمعت البَراء بن عازب قال: كان المُهاجرون يومَ بدرٍ نَيّفًا وثمانين، وكانت الأنصارُ نَيّفًا وأربعين ومئتين (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4302 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4302 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”غزوہ بدر کے دن مہاجرین کی تعداد اسی (80) سے کچھ اوپر تھی، جبکہ انصار کی تعداد دو سو چالیس (240) سے کچھ زائد تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو نعيم، حدثنا ابن الغَسيل، عن حمزة بن أبي أُسيد، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدرٍ حين صَفَفْنا للقتال لقريشٍ وصَفُّوا لنا: "إذا أكثَبُوكُم فارمُوهُم بالنَّبل" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4303 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4303 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن، جب ہم نے قریش کے خلاف لڑائی کے لیے صف بندی کر لی اور انہوں نے بھی ہمارے سامنے صفیں بنا لیں، تو ارشاد فرمایا: ”جب وہ تمہارے بالکل قریب آ جائیں «أكثَبُوكُم» تو ان پر تیروں سے وار کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔