کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اسلامی تاریخ کا آغاز نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی ہجرت سے ہونا
حدثنا أبو الحُسين محمد بن أحمد الخياط ببغداد، حدثنا عبيد بن شريك البَزّار، حدثنا أبو معمَر، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه سهل بن سعد، قال: أخطأ الناسُ في العَدَد، ما عَدُّوا من مبعثِه (1) ولا من وفاته، إنما عَدُّوا من مقدمه المدينة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4285 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4285 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”لوگوں نے (سن ہجری کی) گنتی میں غلطی کی، انہوں نے نہ تو آپ ﷺ کی بعثت کے سال سے حساب لگایا اور نہ ہی آپ ﷺ کی وفات کے سال سے، بلکہ انہوں نے تو صرف آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے وقت سے تاریخ کا حساب لگایا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا ابن أبي مريم [عن يعقوب بن إسحاق] (1) حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس قال: كان التاريخ في السنة التي قدِمَ فيها رسول الله ﷺ المدينة، وفيها وُلِد عبد الله بن الزبير (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4286 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4286 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”تاریخ (ہجری) کا آغاز اس سال سے ہوا جس میں رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، اور اسی سال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تھی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔