المستدرك على الصحيحين
كتاب الهجرة— ہجرت کا بیان
مُشَاوَرَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَمْرِ تَارِيخِ الْإِسْلَامِ باب: اسلامی تاریخ کے معاملے میں حضرت عمرؓ سے مشورہ
حدیث نمبر: 4333
حدثنا أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا نُعيم بن حماد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عثمان بن عبيد الله بن أبي رافع، قال: سمعتُ سعيد بن المسيب يقول: جمع عمرُ الناس، فسأَلَهُم من أي يومٍ يَكتُبُ التاريخ؟ فقال علي بن أبي طالب: من يوم هاجر رسول الله ﷺ وَتَرَكَ أَرضَ الشِّرْك، ففعله عمر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4287 - صحيححافظ طلحہ بابر
سعید بن مسیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ کس دن سے تاریخ (تقویم) لکھی جائے؟ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس دن سے جس دن رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی اور شرک کی سرزمین کو چھوڑ دیا“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی پر عمل کرتے ہوئے تاریخ کا تعین فرمایا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسنٌ إلى سعيد بن المسيب، من أجل عثمان بن عُبيد الله، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، ورواية سعيد بن المسيب هذه عن عمر وإن كانت مرسلة، تُعدّ عند الحُذَّاق من أهل العلم من أقوى المراسيل، لجلالة سعيد، حتى إنَّ أبا حاتم الرازي قال: يدخل في المُسند على المجاز، وقال أحمد بن حنبل: إذا لم يُقبل سعيد عن عمر فمن يُقبل؟!
درجۂ حدیث: (1) یہ سند سعید بن مسیب تک حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عثمان بن عبیداللہ ہیں، ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ سعید بن مسیب کی یہ روایت اگرچہ حضرت عمر سے مرسل ہے، لیکن ماہرینِ فن (حُذّاق) کے نزدیک یہ "اقویٰ المراسیل" (سب سے قوی مرسل روایات) میں شمار ہوتی ہے کیونکہ سعید کی شان جلیل القدر ہے۔ حتیٰ کہ ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "یہ مجازاً مسند میں داخل ہوتی ہے"، اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "اگر سعید کی عمر سے روایت قبول نہ کی جائے تو پھر کس کی قبول ہوگی؟!"
وأخرجه خليفة بن خياط في "تاريخه" ص 51، والبخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 9، وفي "التاريخ الأوسط" 1/ 283، وعمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 758، والطبري في "تاريخه" 2/ 391 و 4/ 38 - 39، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ 43 و 44 من طرق عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، به.
حوالہ / مصدر: اسے خلیفہ بن خیاط نے "التاریخ" (ص 51)، بخاری نے "التاریخ الکبیر" (1/ 9) اور "التاریخ الاوسط" (1/ 283)، عمر بن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (2/ 758)، طبری نے "التاریخ" (2/ 391 اور 4/ 38-39) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (1/ 43 اور 44) میں عبدالعزیز بن محمد الدراوردی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ سند سعید بن مسیب تک حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عثمان بن عبیداللہ ہیں، ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ سعید بن مسیب کی یہ روایت اگرچہ حضرت عمر سے مرسل ہے، لیکن ماہرینِ فن (حُذّاق) کے نزدیک یہ "اقویٰ المراسیل" (سب سے قوی مرسل روایات) میں شمار ہوتی ہے کیونکہ سعید کی شان جلیل القدر ہے۔ حتیٰ کہ ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "یہ مجازاً مسند میں داخل ہوتی ہے"، اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "اگر سعید کی عمر سے روایت قبول نہ کی جائے تو پھر کس کی قبول ہوگی؟!"
وأخرجه خليفة بن خياط في "تاريخه" ص 51، والبخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 9، وفي "التاريخ الأوسط" 1/ 283، وعمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 758، والطبري في "تاريخه" 2/ 391 و 4/ 38 - 39، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ 43 و 44 من طرق عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، به.
حوالہ / مصدر: اسے خلیفہ بن خیاط نے "التاریخ" (ص 51)، بخاری نے "التاریخ الکبیر" (1/ 9) اور "التاریخ الاوسط" (1/ 283)، عمر بن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (2/ 758)، طبری نے "التاریخ" (2/ 391 اور 4/ 38-39) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (1/ 43 اور 44) میں عبدالعزیز بن محمد الدراوردی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4333 سے ماخوذ ہے۔