کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی جبکہ آپ ﷺ کی عمر تینتالیس برس تھی
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفَضْل، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر، حدثنا عبد العزيز بن أبي ثابت الزُّهْري، حدثنا الزّبير بن موسى، عن أبي الحُوَيرث، عن قَبَاثِ بن أُشْيَمَ الكِنَاني ثم اللَّيثيّ، قال: تَنبّأَ رسولُ الله ﷺ على رأسِ أربعينَ من الفِيل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرج البخاري حديث عِكْرمة عن ابن عبّاس: بُعِث وهو ابن أربعين (2). والدليل على صحة حديث قَباثٍ بن أشْيَمَ اختيارُ سيِّد التابعين هذا القول (3):
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرج البخاري حديث عِكْرمة عن ابن عبّاس: بُعِث وهو ابن أربعين (2). والدليل على صحة حديث قَباثٍ بن أشْيَمَ اختيارُ سيِّد التابعين هذا القول (3):
حافظ طلحہ بابر
قباث بن اشیم کنانی الیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عام الفیل (ہاتھی والے سال) کے ٹھیک چالیس سال بعد نبی بنائے گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عکرمہ کی حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، اور قباث بن اشیم کی حدیث کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ سید التابعین نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عکرمہ کی حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، اور قباث بن اشیم کی حدیث کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ سید التابعین نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
كما أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، قال: أُنزل على النبي ﷺ وهو ابن ثلاثٍ وأربعين (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4213 - عبد العزيز بن أبي ثابت واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4213 - عبد العزيز بن أبي ثابت واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ پر (وحی کا) نزول اس وقت ہوا جب آپ کی عمر مبارک تینتالیس سال تھی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن خَديجة، أنها قالت: لما أبطأَ عن رسولِ الله ﷺ الوحيُ، جَزِعَ من ذلك جَزَعًا شديدًا، فقلت ممّا رأيتُ من جَزَعِه: لقد فَلَاكَ ربُّك لما يرى من جَزَعِكَ، فأنزل الله: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [الضحى:3] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لإرسالٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4214 - صحيح مرسل
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لإرسالٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4214 - صحيح مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ پر وحی کے نزول میں تاخیر ہوئی تو آپ ﷺ اس سے سخت غمزدہ ہوئے، تو میں نے آپ کا غم دیکھ کر کہا: «لَقَدْ فَلَاكَ رَبُّكَ لِمَا يَرَى مِنْ جَزَعِكَ» ”بے شک آپ کے رب نے آپ کی بے چینی دیکھ کر آپ کو (آزمائش کے لیے) تنہا چھوڑ دیا ہے“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [الضحى: 3] ”(اے نبی!) آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن اس میں ارسال ہونے کی وجہ سے شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن اس میں ارسال ہونے کی وجہ سے شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذرٍّ [عن أبيه] (1) عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أن رسول الله ﷺ قال لجبريلَ: "ما يَمنعُك أن تَزُورَنا أكثر مما تَزُورُنا" فأنزل الله ﷿: ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4215 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4215 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: «مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا» ”آپ ہمارے پاس اس سے زیادہ کثرت سے کیوں نہیں آتے جتنا کہ آپ اب آتے ہیں؟“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾ سے لے کر ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] تک ”اور (جبرائیل نے کہا کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے... اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن حسان، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: فُصِلَ القرآنُ من الذِّكر، فوُضِعَ في بيت العِزَّةِ في السماء الدُّنيا، فجعلَ جبريلُ ﵇ يُنزِّلُه على النبي ﷺ، يُرَتِّلُه ترتيلًا (3). قال سفيانُ: خمسَ آياتٍ ونحوَها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4216 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4216 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قرآن کریم کو ذکر (لوحِ محفوظ) سے الگ کر کے آسمانِ دنیا پر بیت العزت میں رکھا گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام اسے نبی کریم ﷺ پر ٹھہر ٹھہر کر تھوڑا تھوڑا نازل کرنے لگے۔ سفیان کہتے ہیں: (ایک وقت میں) پانچ آیات یا اس کے لگ بھگ نازل ہوتیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔