أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا سَلْم (1) بن جُنادة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: بَعَثَ عيسى ابن مريم يحيى بنَ زكريا في اثني عشر ألفًا من الحَوارِيِّين يُعلِّمون الناسَ، قال: وكان فيما يَنهَونهم عنه نكاحُ ابنةِ الأخ، قال: وكانت لملِكِهم ابنةُ أخٍ تُعجِبُه يريد أن يَتزوّجها، فكانت لها كلَّ يومٍ حاجةٌ يقضيها، فلما بلغَ ذلك أمَّها قالت لها: إذا دخلتِ على الملِكِ فسألَكِ حاجَتَك، فقولي: حاجتي أن تَذبَحَ لي يحيى بنَ زكريا، فلما دخلتْ عليه سألها حاجتَها، فقالت: حاجتي أن تَذبَحَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِيني غيرَ هذا، فقالت: ما أسألُك إلّا هذا، فقال: فلما أبَتْ عليه دعا يحيى بنَ زكريا ودعا بطَسْتٍ، فذبَحَه فنَدَرَت (2) قَطرةٌ من دَمِه على الأرض، فلم تَزَلْ تَغلي حتى بعثَ اللهُ بُخْتنَصَّر عليهم، فجاءتْه عجوزٌ من بني إسرائيل، فدلَّتْه على ذلك الدم، فألقى اللهُ في قلبِه أن يَقتُل على ذلك الدمِ منهم حتى يَسكُن، فقتل سبعين ألفا منهم من سِنٍّ واحدةٍ حتى سَكَنَ (3).
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو بارہ ہزار حواریوں کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں۔ وہ جن باتوں سے انہیں منع کرتے تھے ان میں بھتیجی سے نکاح کرنا بھی شامل تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جو اسے بہت پسند تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، اور وہ لڑکی ہر روز اپنی کوئی ایک حاجت بادشاہ سے پوری کرواتی تھی۔ جب یہ بات اس لڑکی کی ماں کو معلوم ہوئی تو اس نے بیٹی سے کہا: ”جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ اور وہ تم سے تمہاری حاجت پوچھے تو کہنا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ میرے لیے یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دیں۔“ چنانچہ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی تو اس نے اس سے حاجت پوچھی، لڑکی نے کہا: ”میری حاجت یہ ہے کہ آپ یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دیں۔“ بادشاہ نے کہا: ”مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو۔“ لڑکی نے کہا: ”میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ اپنی بات پر اڑ گئی تو بادشاہ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو بلوایا اور ایک طشت منگوایا، پھر انہیں ذبح کر دیا، پس ان کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا جو مسلسل ابلتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کر دیا۔ پھر بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا اس کے پاس آئی اور اسے اس خون کا پتہ بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اس خون کے بدلے ان میں سے لوگوں کو قتل کرے یہاں تک کہ وہ خون پرسکون ہو جائے (ابلنا بند کر دے)۔ چنانچہ اس نے ان میں سے ایک ہی عمر کے ستر ہزار آدمیوں کو قتل کر دیا تب جا کر وہ خون رکا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافِعي من أصل كتابه، حدثنا محمد بن شَدَّاد المِسْمَعيّ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى محمد ﷺ: إني قَتلْتُ بيحيى ابن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابنِ ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (1). وقد رواه حميد بن الربيع الخَزّاز عن أبي نُعيم. ذكر نبي الله ورُوحه عيسى ابن مريم صلوات الله عليه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی طرف وحی فرمائی: ”بیشک میں نے یحییٰ ابن زکریا کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو قتل کروایا تھا، اور میں آپ کی بیٹی کے بیٹے کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار (ایک لاکھ چالیس ہزار) لوگوں کو قتل کرواؤں گا۔“ اسے حمید بن ربیع خزاز نے بھی ابو نعیم سے روایت کیا ہے۔ (اس کے بعد) اللہ کے نبی اور اس کی روح عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ کا ذکر شروع ہوتا ہے۔