المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
قِصَّةُ قَتْلِ يَحْيَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ
حدیث نمبر: 4197
فحدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافِعي من أصل كتابه، حدثنا محمد بن شَدَّاد المِسْمَعيّ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى محمد ﷺ: إني قَتلْتُ بيحيى ابن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابنِ ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (1). وقد رواه حميد بن الربيع الخَزّاز عن أبي نُعيم. ذكر نبي الله ورُوحه عيسى ابن مريم صلوات الله عليه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی طرف وحی فرمائی: ”بیشک میں نے یحییٰ ابن زکریا کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو قتل کروایا تھا، اور میں آپ کی بیٹی کے بیٹے کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار (ایک لاکھ چالیس ہزار) لوگوں کو قتل کرواؤں گا۔“ اسے حمید بن ربیع خزاز نے بھی ابو نعیم سے روایت کیا ہے۔ (اس کے بعد) اللہ کے نبی اور اس کی روح عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ کا ذکر شروع ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف ومتنه منكر، وهو مكرر الحديث السالف برقم (3184).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور متن منکر ہے، اور یہ پہلے گزرنے والی حدیث نمبر (3184) کا تکرار ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور متن منکر ہے، اور یہ پہلے گزرنے والی حدیث نمبر (3184) کا تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4197 سے ماخوذ ہے۔