کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: وكان نبيُّ الله داودُ ابنَ إيشا بن عُوبِد بن باعَز بن سَلْمون بن نَحْشون بن نادَب بن رام بن حَصْرون بن فارَص (3) بن يَهُوذا بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم الخليل، وكان رجلًا قصيرًا أزرق، قليلَ الشَّعر، طاهرَ القلب، فقيهًا (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4130 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کا نسب یہ ہے: داود بن ایشا بن عوبد بن باعز بن سلمون بن نحشون بن نادب بن رام بن حصرون بن فارص بن یہوذا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل علیہم السلام۔ اور وہ ایک چھوٹے قد والے، نیلی آنکھوں والے، کم بالوں والے، پاک دل اور فقیہ (گہری سمجھ رکھنے والے) شخص تھے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4175
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 4175] [ترقيم الشركة 4152] [ترقيم العلميه 4130]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: وأخبرني عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، في قول الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ [البقرة: 243 - 246]، قال: أوحَى اللهُ إلى نبيِّهم: أنْ في ولدِ فُلانٍ رجلٌ يَقتُل اللهُ به الجالوتَ، ومن علامَتِه هذا القَرْنُ تضعُه على رأسِه فيَفيضُ ماءً، فأتاه، فقال: إنَّ الله أوحَى إليَّ أنَّ في ولدك رجلًا يقتُل اللهُ به جالوتَ، قال: نعم يا نبيَّ الله، قال: فأخرجَ له اثنَي عَشَر رجلًا أمثالَ السَّواري، وفيهم رجلٌ بارعٌ عليهم، فجعل يَعرِضُهم على القَرْن، فلا يَرى شيئًا، قال: فقال: إنَّ لك غيرَ هؤلاء لَولَدٌ، قال: نعم يا نبي الله، لي ولد قَصِيرٌ استحييتُ أن يَراه الناسُ، فجعلتُه في الغَنَم، قال: فأين هو؟ قال: هو في شِعْبِ كذا وكذا، قال: فخرج إليه، فقال: هذا هو لا شَكَّ فيه، قال: فَوَضَعَ القَرْنَ على رأسِه ففاضَ (1) (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4131 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے“ سے لے کر ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ ”اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے“ [سورة البقرة: 243 - 246] تک کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں شخص کی اولاد میں ایک ایسا آدمی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرائے گا، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تم یہ سینگ اس کے سر پر رکھو گے تو اس سے پانی ابل پڑے گا۔ چنانچہ وہ (نبی) اس شخص کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تمہاری اولاد میں ایک ایسا آدمی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرائے گا۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی! پھر اس نے ان کے سامنے ستونوں جیسے (مضبوط اور قد آور) بارہ آدمی پیش کیے، جن میں ایک شخص سب سے بڑھ کر خوبصورت تھا۔ پس وہ نبی انہیں اس سینگ کے سامنے لانے لگے لیکن انہیں کوئی نشانی نظر نہ آئی۔ اس پر نبی نے فرمایا: کیا ان کے علاوہ بھی تمہاری کوئی اولاد ہے؟ اس شخص نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے نبی! میرا ایک چھوٹے قد کا بیٹا ہے، مجھے لوگوں کو اسے دکھانے میں شرم محسوس ہوئی اس لیے میں نے اسے بکریوں میں (چرانے کے لیے) بھیج دیا ہے۔ نبی نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ فلاں فلاں گھاٹی میں ہے۔ پس نبی اس کی طرف نکل گئے (اور جب اسے دیکھا تو) فرمایا: بلاشبہ یہی وہ شخص ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا تو وہ (پانی سے) ابل پڑا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4176
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن زيد بن أسلم
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، فضعيف، وهو صاحب قرآن وتفسير، كما قال الذهبي في "السير" 8/ 349، وقد جاء نحوه من رواية السُّدِّي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي مالك وأبي صالح عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة عن ابن مسعود، وعن ناس من أصحاب رسول الله ﷺ. وسنده حسن.» [ترقيم الرساله 4176] [ترقيم الشركة 4153] [ترقيم العلميه 4131]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هِشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لما خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظَهْره، فخَرَجَ من ظَهْره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها مِن ذُرِّيتِه إلى يوم القيامة، وجعل بين عينَي كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال: أيْ ربِّ، من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، قال: فرأى رجلًا منهم أعجَبَه وبيصُ ما بين عينَيه، قال: يا ربِّ، مَن هذا؟ قال: هذا رجلٌ من آخِر الأمم من ذُرِّيتك، يقال له: داود، قال يا ربِّ: كم جعلتَ عُمرَه؟ قال: ستون سنةً، قال: أيْ ربِّ، زِدْهُ من عُمري أربعين سنة، قال: فلما انقضى عُمرُ آدمَ جاء مَلَكُ الموت، فقال: أولم يَبْقَ من عُمري أربعون سنة؟ قال: أوَلم تُعطِها ابنَك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَتْ ذُرِّيتُه، ونَسيَ فنَسِيَتْ ذُرِّيته، وخَطِئَ فخَطِئَت ذُرِّيتُه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، جس سے ان کی پیٹھ سے وہ تمام روحیں نکل آئیں جنہیں اللہ قیامت تک ان کی اولاد میں پیدا کرنے والا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک رکھ دی۔ پھر انہیں آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد ہے۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت پسند آئی۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد میں سے آخری امتوں کا ایک آدمی ہے جسے داود کہا جاتا ہے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے رب! آپ نے اس کی عمر کتنی مقرر فرمائی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ساٹھ سال۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ پس جب آدم علیہ السلام کی (مقررہ) عمر پوری ہو گئی تو موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں ہیں؟ فرشتے نے جواب دیا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے داود کو نہیں دے دیے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولنے لگی، اور انہوں نے خطا کی تو ان کی اولاد بھی خطا کرنے لگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4177
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد، وقد توبع كما قدَّمنا بيانه برقم (3296).» [ترقيم الرساله 4177] [ترقيم الشركة 4154] [ترقيم العلميه 4132]