المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ صَاحِبِ الزَّبُورِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هِشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لما خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظَهْره، فخَرَجَ من ظَهْره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها مِن ذُرِّيتِه إلى يوم القيامة، وجعل بين عينَي كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال: أيْ ربِّ، من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، قال: فرأى رجلًا منهم أعجَبَه وبيصُ ما بين عينَيه، قال: يا ربِّ، مَن هذا؟ قال: هذا رجلٌ من آخِر الأمم من ذُرِّيتك، يقال له: داود، قال يا ربِّ: كم جعلتَ عُمرَه؟ قال: ستون سنةً، قال: أيْ ربِّ، زِدْهُ من عُمري أربعين سنة، قال: فلما انقضى عُمرُ آدمَ جاء مَلَكُ الموت، فقال: أولم يَبْقَ من عُمري أربعون سنة؟ قال: أوَلم تُعطِها ابنَك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَتْ ذُرِّيتُه، ونَسيَ فنَسِيَتْ ذُرِّيته، وخَطِئَ فخَطِئَت ذُرِّيتُه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، جس سے ان کی پیٹھ سے وہ تمام روحیں نکل آئیں جنہیں اللہ قیامت تک ان کی اولاد میں پیدا کرنے والا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک رکھ دی۔ پھر انہیں آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد ہے۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت پسند آئی۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد میں سے آخری امتوں کا ایک آدمی ہے جسے داود کہا جاتا ہے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے رب! آپ نے اس کی عمر کتنی مقرر فرمائی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ساٹھ سال۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ پس جب آدم علیہ السلام کی (مقررہ) عمر پوری ہو گئی تو موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں ہیں؟ فرشتے نے جواب دیا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے داود کو نہیں دے دیے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولنے لگی، اور انہوں نے خطا کی تو ان کی اولاد بھی خطا کرنے لگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے ہشام بن سعد کی وجہ سے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے جیسا کہ ہم نمبر (3296) میں بیان کر چکے ہیں۔
وسلف عند المصنف برقم (215) و (216) من وجهين آخرين عن أبي هريرة.
تفصیلِ روایت: مصنف کے ہاں یہ حدیث پہلے نمبر (215) اور (216) پر ابو ہریرہ سے دو دوسرے طریقوں سے گزر چکی ہے۔