کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی مگر اس کا نبی مکہ پہنچا، اور حضرت ہود علیہ السلام کی قبر حجر اور زمزم کے درمیان ہے
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العبدي، حدثنا أبو بكر بن أبي خَيْثمة، حدثنا مُؤمل بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن عبد الرحمن بن سابط، قال: إنه لم تَهْلِكُ أمة إلّا لَحِقَ نبيُّها بمكة، فتعبَّد فيها حتى يموت، وإن قبرَ هُود بين الحَجَر وزمزم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4061 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب بھی کوئی امت ہلاک ہوئی تو اس کے نبی نے مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کر لی اور وہیں عبادت میں مصروف رہے یہاں تک کہ وفات پا گئے، اور بلاشبہ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر حجر اسود اور زمزم کے درمیان واقع ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد أخطأ في إسناد هذا الخبر، إذ جعله عن عبد الرحمن بن سابط التابعي من قوله، وإنما هو لأخيه محمد بن سابط مرفوعًا مرسلًا كما في رواية أبي سعيد مولى بني هاشم ويزيد بن هارون عن حماد بن سلمة، وحمّاد بن سلمة ممّن ...» [ترقيم الرساله 4105] [ترقيم الشركة 4083] [ترقيم العلميه 4061]
حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّويه الرئيس بمرو، حدثنا جعفر بن محمد النيسابوري، حدثنا مهران الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن عبد الله بن أبي سعيد الخُزاعي، عن أبي الطفيل عامر بن واثلة، قال: سمعتُ علي بن أبي طالب يقول لرجل من حضرموت: أرأيتَ كَثيبًا أحمر يُخالِطُه مَدَرةٌ حمراء وسِدْرٌ كثيرٌ بناحية كذا وكذا من أرض حضرموت، هل رأيته؟ قال: والله يا أمير المؤمنين إنك لتَنْعَتُه نعت رجل قد رآه، قال: لا، ولكن حُدِّثتُ عنه، قال الحضرمي: وما شأنه يا أمير المؤمنين؟ قال: فيه قبر هود ﷺ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حضرموت کے ایک شخص سے یہ پوچھتے ہوئے سنا: ”کیا تم نے حضرموت کے فلاں فلاں علاقے میں سرخ مٹی سے ملا ہوا ایک سرخ ریت کا ٹیلہ دیکھا ہے جس کے پاس بیری کے بہت سے درخت ہیں، کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین، آپ تو اس کی ایسی منظر کشی کر رہے ہیں جیسے کسی دیکھنے والے نے اسے خود دیکھا ہو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں (میں نے اسے خود نہیں دیکھا)، بلکہ مجھے اس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔“ حضرمی شخص نے پوچھا: ”اے امیر المؤمنین! اس جگہ کی کیا خاص بات ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس میں حضرت ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عبد الله بن أبي سعيد الخُزاعي. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 8/ 417 عن محمد بن حميد الرازي، عن سلمة بن الفضل، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 4106] [ترقيم الشركة 4084] [ترقيم العلميه 4062]