کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات دو سو برس کی عمر میں ہوئی
حدثنا عبد الله بن إسحاق البغوي ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البَزّاز، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيب، أن أبا هريرة قال: اختَتَن إبراهيم بعد عشرين ومئة سنة بالقدوم، ومات ﷺ وهو ابن مئتي سنة (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4022 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4022 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک سو بیس سال کی عمر میں قدوم (نامی مقام یا آلے) کے ساتھ اپنا ختنہ کیا، اور جب آپ علیہ السلام کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر دو سو سال تھی۔
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا تميم بن محمد. وأخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع؛ قالا: حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، قال: اختَتَن إبراهيم بعد عشرين ومئة سنة بالقدوم، ثم عاش بعد ذلك ثمانين سنة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک سو بیس سال کی عمر میں قدوم (نامی مقام یا آلے) کے ساتھ اپنا ختنہ کیا، پھر اس کے بعد وہ مزید اسی سال زندہ رہے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا حميد بن عيّاش الرَّمْلي، حدثنا مؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضَرِّب، عن علي قال: لما أُمر إبراهيم ببناء البيتِ خرج معه إسماعيل وهاجَرُ، فلما قدم مكة رأى على رأسه في موضع البيتِ مثل الغَمامة فيه مثل الرأس، فكلَّمه، فقال: يا إبراهيم، ابنِ علي ظِلِّي - أو على قَدْري - ولا تَزِد ولا تنقص، فلما بنى خرج وخَلَّف إسماعيل وهاجَرَ، وذلك حين يقول الله ﷿: ﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4024 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4024 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا، تو ان کے ساتھ سیدنا اسماعیل اور سیدہ ہاجرہ علیہما السلام بھی نکلے۔ جب وہ مکہ پہنچے تو انہوں نے بیت اللہ کی جگہ اپنے سر پر ایک بادل جیسا سایہ دیکھا جس میں سر جیسی شکل تھی۔ اس نے ان سے کلام کیا اور کہا: اے ابراہیم! میرے سائے پر (یا میری مقدار کے مطابق) عمارت بناؤ، اور اس میں نہ زیادتی کرنا اور نہ کمی۔ پس جب انہوں نے اسے تعمیر کر لیا تو وہ وہاں سے نکل گئے اور اسماعیل اور ہاجرہ (علیہما السلام) کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ ”اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے اس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ مقرر کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔“ [سورة الحج: 26]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، حدثنا إبراهيم بن نافع قال: سمعت كثير بن كَثير يُحدّث عن سعيد بن جبير، عن ابن عبّاس قال: جاء إبراهيم ﵇ فوجد إسماعيل يُصلح له بيتًا من وراء زمزم، فقال له إبراهيم: يا إسماعيل، إن ربك قد أمرني [ببناء البيت] (1)، فقال له إسماعيل: فأطِعْ ربَّك فيما أمرك، قال: فأعِنِّي عليه، قال: فقام معه، فجعل إبراهيم يبنيه وإسماعيل يُناوله الحجارة، ويقولان: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [البقرة: 127] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4025 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4025 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام آئے تو انہوں نے اسماعیل علیہ السلام کو زمزم کے پیچھے اپنا ایک گھر ٹھیک کرتے ہوئے پایا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: اے اسماعیل! بیشک تمہارے رب نے مجھے بیت اللہ تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو اسماعیل علیہ السلام نے ان سے کہا: پھر آپ اپنے رب کی اس بات میں اطاعت کریں جس کا اس نے آپ کو حکم دیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تو تم اس کام میں میری مدد کرو۔ اسماعیل علیہ السلام نے کہا (کہ وہ تیار ہیں)، پس وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام اسے تعمیر کرنے لگے اور اسماعیل علیہ السلام انہیں پتھر پکڑانے لگے، اور وہ دونوں (یہ دعا) پڑھتے جاتے تھے: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ ”اے ہمارے رب! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما، بیشک تو ہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔“ [سورة البقرة: 127]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس، قال: لما بنى إبراهيم البيت أوحى الله إليه أن أذِّنْ في الناس بالحج. قال: فقال إبراهيم: ألا إنَّ ربَّكم قد اتَّخذ بيتًا، وأمركم أن تحُجُّوه، فاستجاب له ما سمعه من حَجَرٍ أو شَجَرِ أو أَكَمَةٍ أو تُراب: لبيك اللهم لبيك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4026 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4026 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ تعمیر کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ ابراہیم علیہ السلام نے پکارا: سنو! بیشک تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے، اور تمہیں اس کا حج کرنے کا حکم دیا ہے۔ پس جس کسی پتھر، درخت، ٹیلے یا مٹی نے ان کی یہ آواز سنی، اس نے جواب دیا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔““
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔