کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آسمانوں، زمین اور سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق کا بیان
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمَسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا هناد بن السَّرِي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن أبي سعد (1)، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ اليهود أتت النبي ﷺ، فسألته عن خَلْقٍ السماوات والأرض، فقال: "خلَقَ اللهُ الأرضَ يوم الأحد والاثنين، وخلق الله الجبال يوم الثلاثاء وما فيهنَّ من منافع، وخلَقَ يومَ الأربعاء الشجر والماء والمدائن والعُمران والخراب، فهذه أربعة، فقال ﷿: ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا﴾ إلى آخر الآية قال الله ﷿: ﴿فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ﴾ [فصلت:9 - 10] وخلق يوم الخميس السماء، وخلَقَ يومَ الجمعة النجوم والشمس والقمر والملائكة، إلى ثلاث ساعات بقين منه، فخلَقَ في أول ساعة من هذه الثلاث ساعات الآجال حين يموتُ مَن مات، وفي الثانية ألقى الآفة على كل شيء مما ينتفع به الناسُ، وفي الثالثة آدم وأسكنه الجنة وأمر إبليس بالسجود له، وأخرجه منها في آخر ساعة" ثم قالت اليهود: ثم ماذا يا محمد؟ قال: "ثم استوى على العرش" قالوا: قد أصبت لو أتممت، قالوا: ثم استراح، قال: فغضب النبي ﷺ غضبًا شديدًا، فنزلت: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ﴾ [ق: 38 - 39] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3997 - أبو سعيد البقال قال ابن معين لا يكتب حديثه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3997 - أبو سعيد البقال قال ابن معين لا يكتب حديثه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین کو پیدا کیا، اور منگل کے دن پہاڑوں کو اور ان میں موجود منافع (فائدے والی چیزوں) کو پیدا کیا، اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادیاں اور ویرانے پیدا کیے۔ یہ چار دن ہو گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا﴾ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: ﴿فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ﴾ [سورة فصلت: 9-10] اور جمعرات کے دن آسمان کو پیدا کیا، اور جمعہ کے دن ستاروں، سورج، چاند اور فرشتوں کو پیدا کیا، یہاں تک کہ اس (دن) کی تین گھڑیاں باقی رہ گئیں۔ ان تین گھڑیوں میں سے پہلی گھڑی میں اس نے موت کے اوقات مقرر کیے کہ کون کب مرے گا، دوسری گھڑی میں ہر اس چیز پر آفت (زوال) ڈال دی جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں، اور تیسری گھڑی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، انہیں جنت میں بسایا، ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا، اور پھر آخری گھڑی میں انہیں وہاں سے نکال دیا۔“ پھر یہودیوں نے کہا: ”اے محمد! پھر کیا ہوا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔“ یہودیوں نے کہا: ”آپ نے ٹھیک کہا اگر آپ بات پوری کر دیتے، پھر اس نے آرام کیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس (گستاخانہ بات) پر نبی کریم ﷺ سخت غضبناک ہوئے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ﴾ [سورة ق: 38-39]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عباد بن العوام، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عُتَيّ السَّعدي، عن أبي بن كعب، قال: كان آدم رجلًا طوالًا، كثير شعر الرأس، كأنه نخلةٌ جَوفاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3998 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3998 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام طویل قامت (لمبے قد والے) آدمی تھے، ان کے سر پر گھنے بال تھے، گویا کہ وہ کھجور کا ایک لمبا درخت ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا محمد بن بشر العَبْدي، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "خير يوم طلعت الشمسُ فيه يوم الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه أهبط إلى الأرض" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد أخرجاه (3) من حديث الزهري بغير هذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3999 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد أخرجاه (3) من حديث الزهري بغير هذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3999 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا، وہ جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن انہیں زمین پر اتارا گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) نے اسے زہری کی حدیث سے ان الفاظ کے علاوہ (دوسرے الفاظ کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) نے اسے زہری کی حدیث سے ان الفاظ کے علاوہ (دوسرے الفاظ کے ساتھ) روایت کیا ہے۔