حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا موسى بن إسماعيل، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن عطاء، عن عَرفجة، عن عبد الله بن مسعود قال: قَسَمُ ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ﴾: ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ إلى آخرها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3916 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3916 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ﴾ [سورة البروج: 1] کی قسم کا جواب (مقصدِ قسم) اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [سورة البروج: 12] ”بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے“ سورت کے آخر تک۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن أبي حمزة الثُّمَالي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ ممّا خَلَقَ اللهُ لَلَوحًا محفوظًا من دُرَةٍ بيضاءَ، دَفَّتاهُ من ياقوتةٍ حمراء، قلمُه بر، وكتابُه نورٌ، يَنظُر فيه كلَّ يوم ثلاثَ مئة وستين نظرةً - أو مرةً - ففى كلِّ نظرة منها يَخلُق ويَرزُق ويُحيي ويُميت، ويُعِزُّ ويُذِلُّ، ويفعلُ ما يشاء، فذلك قولُه: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [الرحمن: 29] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا حمزة الثُّمالي لم يُنقَم عليه إلَّا الغلوُّ في مذهبه فقط! [86 - تفسير سورة الطارق] ﷽
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا حمزة الثُّمالي لم يُنقَم عليه إلَّا الغلوُّ في مذهبه فقط! [86 - تفسير سورة الطارق] ﷽
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ان میں سے ایک لوحِ محفوظ ہے جو سفید موتی سے بنی ہے، اس کی دونوں جلدیں سرخ یاقوت کی ہیں، اس کا قلم نور ہے اور اس کی تحریر بھی نور ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ نظر فرماتا ہے، پس وہ ہر نظر کے ساتھ پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے، عزت بخشتا ہے اور ذلیل کرتا ہے، اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، پس اللہ عزوجل کا یہی فرمان ہے: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [سورة الرحمن: 29] ”وہ ہر روز کسی (نئی) شان میں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور ابوحمزہ ثمالی پر ان کے مخصوص نظریات میں غلو کے سوا کوئی اور اعتراض نہیں کیا گیا!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور ابوحمزہ ثمالی پر ان کے مخصوص نظریات میں غلو کے سوا کوئی اور اعتراض نہیں کیا گیا!