المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الشَّاهِدُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالْمَشْهُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ باب: یومِ عرفہ شاہد ہے اور قیامت کا دن مشہود
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن أبي حمزة الثُّمَالي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ ممّا خَلَقَ اللهُ لَلَوحًا محفوظًا من دُرَةٍ بيضاءَ، دَفَّتاهُ من ياقوتةٍ حمراء، قلمُه بر، وكتابُه نورٌ، يَنظُر فيه كلَّ يوم ثلاثَ مئة وستين نظرةً - أو مرةً - ففى كلِّ نظرة منها يَخلُق ويَرزُق ويُحيي ويُميت، ويُعِزُّ ويُذِلُّ، ويفعلُ ما يشاء، فذلك قولُه: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [الرحمن: 29] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا حمزة الثُّمالي لم يُنقَم عليه إلَّا الغلوُّ في مذهبه فقط! [86 - تفسير سورة الطارق] ﷽
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ان میں سے ایک لوحِ محفوظ ہے جو سفید موتی سے بنی ہے، اس کی دونوں جلدیں سرخ یاقوت کی ہیں، اس کا قلم نور ہے اور اس کی تحریر بھی نور ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ نظر فرماتا ہے، پس وہ ہر نظر کے ساتھ پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے، عزت بخشتا ہے اور ذلیل کرتا ہے، اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، پس اللہ عزوجل کا یہی فرمان ہے: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [سورة الرحمن: 29] ”وہ ہر روز کسی (نئی) شان میں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور ابوحمزہ ثمالی پر ان کے مخصوص نظریات میں غلو کے سوا کوئی اور اعتراض نہیں کیا گیا!
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ابو حمزہ ثمالی کی وجہ سے "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ یہ پہلے نمبر (3813) پر گزر چکی ہے۔