حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدَّثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "إنَّ المؤمنَ إذا أذنَبَ ذنبًا، كانت نُكْتةٌ سوداءُ في قلبه، فإن تاب ونَزَعَ واستَغفَر سُقِلَ منها قلبُه، وإن زاد زادَتْ حتى يُغلَقَ بها قلبُه، فذلك الرَّانُ الذي ذَكَرَ الله في كتابه: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (14)﴾ " (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3908 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3908 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے، (گناہ سے) باز آ جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہ میں اضافہ کرے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے، اور یہی وہ «ران» (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدَّثنا إسحاق بن الحسن، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا سفيان، عن أشعثَ بن أبي الشَّعثاء، عن زيد بن معاوية، عن عَلقَمة بن قيس، عن عبد الله بن مسعود قال: ﴿خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ [المطففين: 26]، قال: خِلْطٌ، وليس بخاتمٍ يُختَم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ 84 - تفسير سورة (إذا السماء انشقَّت) والسجود فيها أما حديثُ السجود فيها، فقد اتَّفق الشيخانِ على حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سَلَمة عن أبي هريرة، ومالكٍ عن عبد الله بن يزيد عن أبي سَلمة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3909 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ 84 - تفسير سورة (إذا السماء انشقَّت) والسجود فيها أما حديثُ السجود فيها، فقد اتَّفق الشيخانِ على حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سَلَمة عن أبي هريرة، ومالكٍ عن عبد الله بن يزيد عن أبي سَلمة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3909 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ [سورة المطففين: 26] کے متعلق فرمایا: (اس سے مراد جنت کی شراب میں) خوشبو کی آمیزش ہے، نہ کہ وہ مہر جسے لگا کر (برتن کو) بند کر دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔