حدیث نمبر: 3951
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا حامد بن أبي حامد، حدَّثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت إبراهيم بن يزيد، عن عبد الرحمن الأعرج قال: رأيتُ ابن عمر يقرأُ ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ وهو يَبْكي، قال: هو الرجلُ يستأجرُ الرجل أو الكيَّال وهو يعلم أنه يَحِيفُ في كَيلِه، فوِزرُه عليه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3907 - إبراهيم بن يزيد واه
حافظ طلحہ بابر

عبد الرحمن الاعرج کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ سورہ مطففین کی پہلی آیت ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] کی تلاوت کر رہے تھے اور (خوفِ الٰہی سے) رو رہے تھے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی دوسرے شخص کو (مزدوری پر) رکھے یا کسی ناپ تول کرنے والے کی خدمات حاصل کرے جبکہ اسے علم ہو کہ وہ اپنے ناپ تول میں ناانصافی اور کمی کرتا ہے، تو اس (کمی) کا وبال اسی (رکھنے والے) پر ہوگا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3951
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن يزيد» [ترقيم الرساله 3951] [ترقيم الشركة 3929] [ترقيم العلميه 3907]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن يزيد - وهو الخُوزي - متروك الحديث، ووهاه الذهبي في "تلخيصه". ولم نقف عليه عند غير المصنف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے، ابراہیم بن یزید (الخوزی) "متروک الحدیث" ہیں، اور ذہبی نے "تلخیص" میں انہیں کمزور قرار دیا ہے۔ مصنف کے علاوہ ہمیں یہ روایت کہیں نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3951 سے ماخوذ ہے۔