حدیث نمبر: 3952
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدَّثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "إنَّ المؤمنَ إذا أذنَبَ ذنبًا، كانت نُكْتةٌ سوداءُ في قلبه، فإن تاب ونَزَعَ واستَغفَر سُقِلَ منها قلبُه، وإن زاد زادَتْ حتى يُغلَقَ بها قلبُه، فذلك الرَّانُ الذي ذَكَرَ الله في كتابه: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (14)﴾ " (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3908 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے، (گناہ سے) باز آ جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہ میں اضافہ کرے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے، اور یہی وہ «ران» (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3952
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد من أجل صفوان بن عيسى وشيخه محمد بن عجلان.» [ترقيم الرساله 3952] [ترقيم الشركة 3930] [ترقيم العلميه 3908]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل صفوان بن عيسى وشيخه محمد بن عجلان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صفوان بن عیسیٰ اور ان کے شیخ محمد بن عجلان کی وجہ سے "جید" ہے۔
وأخرجه أحمد 13/ (7952) عن صفوان بن عيسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (13/7952) نے صفوان بن عیسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (6) من طريق أبي خالد الأحمر عن ابن عجلان.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (6) پر ابو خالد احمر عن ابن عجلان کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وسُقل، بالسين وبالصاد أيضًا: جُلِيَ.
نوٹ / توضیح: "سقل": یہ سین اور صاد دونوں کے ساتھ آتا ہے، اس کا معنی ہے: "جِلا بخشی گئی" (چمکایا گیا)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3952 سے ماخوذ ہے۔