کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تفسیر سورۂ ن والقلم — اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عبَّاس قال: إِنَّ أول شيءٍ خَلَقَه اللهُ القلمُ، فقال له: اكتبْ، فقال: وما أكتبُ؟ فقال: القَدَرَ، فجَرَى من ذلك اليوم بما هو كائنٌ إلى أن تقومَ الساعةُ. قال: وكان عرشُه على الماء، فارتفع بخارُ الماء ففُتِقَت منه السماواتُ، ثم خُلِقَ النُّونُ فبُسِطَت الأرض عليه، والأرضُ على ظهر النُّون، فاضطَرَبَ النُّونُ فمادَتِ الأرض، فأُثبِتَت بالجبال، فإن الجبال تَفخَرُ على الأرض (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3840 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3840 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ قلم ہے، پھر اسے حکم دیا: ”لکھ،“ قلم نے پوچھا: میں کیا لکھوں؟ اللہ نے فرمایا: ”تقدیر لکھ،“ چنانچہ اس دن سے لے کر قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ (قلم سے) جاری ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: اور اللہ کا عرش پانی پر تھا، پھر پانی سے بخارات بلند ہوئے جس سے آسمان الگ کیے گئے، پھر مچھلی (نُون) پیدا کی گئی جس پر زمین بچھائی گئی، اور زمین مچھلی کی پشت پر ہے، پھر جب مچھلی نے حرکت کی تو زمین ڈولنے لگی، تب اسے پہاڑوں کے ذریعے جما دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ پہاڑ زمین پر فخر کرتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أَبي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان عن ابن عبَّاس: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴾ قال: وما يَكتُبون (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3841 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3841 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے فرمان ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴾ کے متعلق فرمایا: اس سے مراد وہ ہے ”جو وہ لکھتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔