کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیرِ سورۃ الحشر — بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کا ذکر
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كانت غزوةُ بني النَّضِير - وهم طائفةٌ من اليهود - على رأس ستة أشهرٍ من وَقْعة بَدْر، وكان منزلُهم ونخلُهم بناحية المدينة، فحاصَرَهم رسولُ الله ﷺ حتى نَزَلوا على الجَلَاء، وعلى أنَّ لهم ما أقلَّتِ الإبل من الأمتعة والأموال إلَّا الحَلْقةَ - يعني السلاح - فأنزل الله فيهم: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ إِلى قوله: ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا﴾ [الحشر: 1، 2]، فقاتلهم النبيُّ ﷺ حتى صالحهم على الجَلَاء، فأَجْلاهم إلى الشام، وكانوا من سِبْطٍ لم يُصِبْهم جلاءٌ فيما خَلَا، وكان الله قد كَتَبَ عليهم ذلك، ولولا ذلك لَعذَّبهم في الدنيا بالقتل والسَّبْي، وأما قوله: ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ﴾، فكان جلاؤُهم ذلك أولَ حشرٍ في الدنيا إلى الشام (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3797 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوہ بنی نضیر (جو کہ یہودیوں کا ایک گروہ تھا) واقعۂ بدر کے چھ ماہ بعد پیش آیا، ان کے مکانات اور کھجور کے باغات مدینہ کے ایک نواحی علاقے میں تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ وہ جلاوطنی پر راضی ہو گئے، اس شرط پر کہ وہ اتنا سامان اور مال لے جا سکیں گے جتنا اونٹ اٹھا سکیں، سوائے «الحَلْقة» یعنی اسلحہ کے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ سے لے کر ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا﴾ [الحشر: 1، 2] تک، پس نبی کریم ﷺ ان سے لڑے یہاں تک کہ ان سے جلاوطنی پر صلح ہو گئی اور آپ ﷺ نے انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا، یہ اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں پہلے کبھی جلاوطنی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، اور اللہ نے ان کے لیے یہی مقدر کر رکھا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ انہیں دنیا میں قتل اور قید کے ذریعے عذاب دیتا، رہا اللہ کا فرمان ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ﴾ تو ان کی یہ جلاوطنی دنیا میں شام کی طرف پہلا حشر (جمع کرنا) تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3839
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل زيد بن المبارك ومن دونه
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل زيد بن المبارك ومن دونه، إلّا أنَّ ذِكرَ عائشة فيه غير محفوظ كما قال البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 178 بعد أن أخرجه عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. قلنا: وكذا عروة بن الزبير غير محفوظ فيه:» [ترقيم الرساله 3839] [ترقيم الشركة 3818] [ترقيم العلميه 3797]
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا منصور بن حيَّان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر وابن عبَّاس: أنهما شَهدًا على رسول الله ﷺ أنه نَهَى عن الدُّبَّاءِ والنَّقِير والحَنتَم والمزفَّت؛ ثم تلا رسولُ الله ﷺ: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3798 - صحيح منصور خرج له مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق گواہی دی کہ آپ ﷺ نے کدو کے برتن (دباء)، کھجور کی لکڑی کے برتن (نقیر)، سبز مٹکے (حنتم) اور روغن قیر لگے برتن (مزفت) کے استعمال سے منع فرمایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان اضافی الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3840
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3840] [ترقيم الشركة 3819] [ترقيم العلميه 3798]