المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
قِصَّةُ إِيثَارِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: صحابۂ کرامؓ کے ایثار کا واقعہ
حدیث نمبر: 3841
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا عبيد الله بن الوليد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: أُهديَ لرجلٍ من أصحاب رسول الله ﷺ رأسُ شاةٍ فقال: إِنَّ أخي فلانًا وعيالَه أحوَجُ إلى هذا منّا، قال: فبَعَثَ إليه، فلم يَزَلْ يَبْعَثُ إليه واحدٌ إلى آخرَ حتى تداوَلَها سبعةُ أبياتٍ، حتى رَجَعَت إلى الأول، فنزلت: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ إلى آخر الآية [الحشر: 9] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوهحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ایک بکری کی سری ہدیہ میں دی گئی، تو انہوں نے کہا: بے شک میرا فلاں بھائی اور اس کے اہل خانہ ہم سے زیادہ اس کے ضرورت مند ہیں، چنانچہ انہوں نے وہ سری اس کی طرف بھیج دی، اسی طرح وہ سری ایک سے دوسرے کے پاس منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ سات گھروں کے چکر لگا کر وہ دوبارہ پہلے گھر ہی میں واپس آ گئی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [الحشر: 9]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف بمَرَّة من أجل عبيد الله بن الوليد الوصّافي، فإنه متفق على ضعفه خاصة في محارب بن دثار، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت (بمرہ) ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ عبیداللہ بن ولید وصافی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، بالخصوص محارب بن دثار سے اس کی روایت میں۔ امام ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اسی بنیاد پر اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3204) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے "شعب الایمان" (3204) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الجود والسخاء" (80)، والواحدي في "أسباب النزول" (810)، وقِوام السنة في "الترغيب والترهيب" (1556) من طريقين عن القاسم بن الحكم، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الجود والسخاء" (80)، واحدی نے "اسباب النزول" (810) اور قوام السنہ نے "الترغیب والترہیب" (1556) میں القاسم بن الحکم کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت (بمرہ) ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ عبیداللہ بن ولید وصافی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، بالخصوص محارب بن دثار سے اس کی روایت میں۔ امام ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اسی بنیاد پر اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3204) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے "شعب الایمان" (3204) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الجود والسخاء" (80)، والواحدي في "أسباب النزول" (810)، وقِوام السنة في "الترغيب والترهيب" (1556) من طريقين عن القاسم بن الحكم، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الجود والسخاء" (80)، واحدی نے "اسباب النزول" (810) اور قوام السنہ نے "الترغیب والترہیب" (1556) میں القاسم بن الحکم کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3841 سے ماخوذ ہے۔