المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِذَا تَرَكَ الصَّلَاةَ أَهْلُ قَرْيَةٍ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ باب: جب کسی بستی کے لوگ نماز چھوڑ دیں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے
حدیث نمبر: 3838
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، أخبرنا السائب بن حُبَيش الكَلَاعي، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، قال: قال لي أبو الدرداء: أين مسكنُك؟ فقلت: في قريةٍ دونَ حِمصَ، فقال أبو الدرداء: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما من ثلاثةٍ في قريةٍ ولا بَدْوٍ لا تقامُ فيهم الصلاةُ، إلَّا قد استَحوَذَ عليهم الشيطانُ"، فعليكَ بالجماعة، فإنما يأكل الذئبُ القاصيةَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي الحِجَّة سنة أربع مئة: [59 - ومن تفسير سورة الحشر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3796 - صحيححافظ طلحہ بابر
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے قریب ایک بستی میں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی بستی یا صحرا میں رہنے والے ایسے تین افراد جن میں نماز (جماعت سے) قائم نہ کی جاتی ہو، ان پر شیطان غالب آ جاتا ہے،“ پس تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور نکل جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل السائب بن حبيش. وهو مكرر (859).
درجۂ حدیث: اس کی سند السائب بن حبیش کی وجہ سے ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے پہلے رقم (859) پر گزر چکی ہے (مکرر ہے)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند السائب بن حبیش کی وجہ سے ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے پہلے رقم (859) پر گزر چکی ہے (مکرر ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3838 سے ماخوذ ہے۔