کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اسلام کے تیس حصے ہیں جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کسی نے مکمل نہیں کیا
أخبرنا محمد بن الحسن الكارِزِيّ (1)، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا معلَّى بن أَسَد، حَدَّثَنَا وُهَيب، عن داود، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: سِهامُ الإسلام ثلاثون سَهمًا، لم يُتمِّمْها أحدٌ قبل إبراهيم، قال الله ﷿: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ [النجم: 37] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3753 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسلام کے احکامات (یا سہام) کی تعداد تیس ہے، جنہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کسی نے مکمل طور پر ادا نہیں کیا، اسی لیے اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ ”اور ابراہیم جس نے (احکامات کو) پورا وفا کیا“ [سورة النجم: 37]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهيب: هو ابن خالد، وداود: هو ابن أبي هند.» [ترقيم الرساله 3795] [ترقيم الشركة 3774] [ترقيم العلميه 3753]
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن النَّضْر الجارُودي، حَدَّثَنَا نَصْر بن علي، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، قال: "كلُّها في صُحُف إبراهيم"، فلما نزلت ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾، فَبَلَغَ ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ قال: "وَفَّى"، ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذْرِ الأُولَى﴾ [النجم: 37 - 56] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3754 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمام مضامین ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی موجود ہیں“، پھر جب سورت ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ نازل ہوئی اور آپ ﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ کہ ”ابراہیم نے پورا وفا کیا“، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے ان تمام باتوں کو پورا کیا جو اس آیت ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ سے لے کر اس قول ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذْرِ الأُولَى﴾ ”یہ (رسول) بھی پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں“ [سورة النجم: 37 - 56] تک ذکر ہوئی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهو مكرر (2967).» [ترقيم الرساله 3796] [ترقيم الشركة 3775] [ترقيم العلميه 3754]
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الله بن أبي داود المُنادِي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عَمرو العَقَدي، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، عن أَسِيد بن أبي أَسِيد، عن موسى بن أبي موسى الأشعري، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "إِنَّ الميت لَيُعذَّبُ ببكاءِ الحيِّ، فإذا قالت: واعَضُداه، وامانعِاه، واناصِراه، واكاسِيَاه، جُبِذَ الميتُ فقيل: أناصرُها أنت؟ أكاسيها أنت؟ أعاضدُها أنت؟ ". قال: فقلت: سبحان الله، قال الله ﷿: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الأنعام: 164]! فقال: وَيْحَكَ، أحدِّثُك عن أبي موسى عن رسول الله ﷺ، وتقول هذا؟ فأَيُّنا كَذَبَ؟! فوالله ما كَذَبتُ على أبي موسى، وما كَذَبَ أبو موسى على رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [54 - ومن تفسير سورة القمر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3755 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا موسیٰ بن ابی موسیٰ اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میت کو زندوں کے (نوحہ کرتے ہوئے) رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، پس جب رونے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرا سہارا! ہائے میرا مددگار! ہائے میرا لباس مہیا کرنے والا! تو میت کو جھنجھوڑا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے: کیا واقعی تو اس کا مددگار تھا؟ کیا تو ہی اسے لباس مہیا کرنے والا تھا؟ کیا تو ہی اس کا بازو تھا؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (حیرت سے) کہا: سبحان اللہ! جبکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ [سورة الأنعام: 164] تو اس پر (استاد نے) کہا: تجھ پر افسوس! میں تجھے سیدنا ابوموسیٰ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو یہ (اعتراض) کر رہا ہے؟ ہم میں سے کون جھوٹا ہے؟ اللہ کی قسم نہ میں نے ابوموسیٰ پر جھوٹ باندھا ہے اور نہ ابوموسیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3797
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أَسيد بن أبي أَسيد.» [ترقيم الرساله 3797] [ترقيم الشركة 3776] [ترقيم العلميه 3755]