حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعبَّاس بن الفَضْل الأَسْفاطي قالا: حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني مُجمِّع بن يعقوب، عن أبيه قال: سمعتُ مجمِّعَ بن جاريةَ يقول: أَقبَلْنا مع رسول الله ﷺ من الحُديبيَة حتَّى بَلَغَ رسولُ الله ﷺ كُرَاعَ الغَمِيم، فإذا الناسُ يَرسِمون نحوَ رسول الله ﷺ، فقال بعض الناس لبعض ما للناسِ؟ قالوا: أُوحِيَ إلى رسول الله ﷺ، فحرَّكْنا حتَّى وَجَدْنا رسولَ الله ﷺ عند كُراعِ الغَميم واقفًا، فلما اجتمع عليه الناسُ قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، فقال بعض الناس: أوَفَتحٌ هو؟ قال: "والذي نفسي بيدِه إنَّه لَفَتحٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3711 - لم يرو مسلم لمجمع شيئا ولا لأبيه وهما ثقتان
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3711 - لم يرو مسلم لمجمع شيئا ولا لأبيه وهما ثقتان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس لوٹے یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ مقامِ کُراع الغَمیم پر پہنچے، تو اچانک لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف (تیزی سے) اپنی سواریاں دوڑانے لگے۔ بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ ہم نے بھی اپنی سواریاں تیز کر دیں یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ کُراع الغَمیم پر کھڑے ہوئے پایا۔ جب تمام لوگ آپ ﷺ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان کے سامنے یہ تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ ”بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کر دی ہے“ [سورة الفتح: 1] اس پر کسی نے (حیرت سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ واقعی فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، یقیناً یہ فتح ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن المَدِيني، حَدَّثَنَا حَرَمِيّ بن عُمارة بن أبي حَفْصة، حَدَّثَنَا شُعبة، عن قَتَادة عن أنس بن مالك في قوله ﷿: ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾، قال: فتحُ خَيْبر ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾، قالوا: يا رسول الله، هَنيئًا لك، فأنزل الله ﷿: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [الفتح: 5] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلم عن أبي موسى عن محمد عن شُعبة بإسناده: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، قال: فتحُ خيبر (1)، هذا فقط. وقد ساق الحَكَمُ بن عبد الملك هذا الحديثَ على وجهه بذِكْر حُنَين وخَيبر (2) جميعًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلم عن أبي موسى عن محمد عن شُعبة بإسناده: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، قال: فتحُ خيبر (1)، هذا فقط. وقد ساق الحَكَمُ بن عبد الملك هذا الحديثَ على وجهه بذِكْر حُنَين وخَيبر (2) جميعًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ”فتحِ خیبر“ ہے۔ اور جب یہ آیت ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے“ [سورة الفتح: 2] نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، (یہ تو آپ کے لیے انعام ہوا) تو ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة الفتح: 5]
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے صرف اس قدر روایت کیا ہے کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ سے مراد فتحِ خیبر ہے۔
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے صرف اس قدر روایت کیا ہے کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ سے مراد فتحِ خیبر ہے۔