حدیث نمبر: 3754
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن المَدِيني، حَدَّثَنَا حَرَمِيّ بن عُمارة بن أبي حَفْصة، حَدَّثَنَا شُعبة، عن قَتَادة عن أنس بن مالك في قوله ﷿: ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾، قال: فتحُ خَيْبر ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾، قالوا: يا رسول الله، هَنيئًا لك، فأنزل الله ﷿: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [الفتح: 5] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلم عن أبي موسى عن محمد عن شُعبة بإسناده: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، قال: فتحُ خيبر (1)، هذا فقط. وقد ساق الحَكَمُ بن عبد الملك هذا الحديثَ على وجهه بذِكْر حُنَين وخَيبر (2) جميعًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ”فتحِ خیبر“ ہے۔ اور جب یہ آیت ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے“ [سورة الفتح: 2] نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، (یہ تو آپ کے لیے انعام ہوا) تو ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة الفتح: 5]
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے صرف اس قدر روایت کیا ہے کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ سے مراد فتحِ خیبر ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3754
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح بذكر الحديبية
تخریج حدیث «حديث صحيح بذكر الحديبية، وهذا إسناد قوي من أجل حرمي بن عمارة، إلّا أنه وهمَ فذكر فتح خيبر، وخالفه كل من روى هذا الحديث فذكر أنَّ هذا الخبر كان في الحديبية.» [ترقيم الرساله 3754] [ترقيم الشركة 3733] [ترقيم العلميه 3712]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح بذكر الحديبية، وهذا إسناد قوي من أجل حرمي بن عمارة، إلّا أنه وهمَ فذكر فتح خيبر، وخالفه كل من روى هذا الحديث فذكر أنَّ هذا الخبر كان في الحديبية.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حدیبیہ کے ذکر کے ساتھ "صحیح" ہے، اور یہ سند حرمی بن عمارہ کی وجہ سے "قوی" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن انہیں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے "فتح خیبر" ذکر کر دیا، حالانکہ باقی تمام راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ "حدیبیہ" میں پیش آیا۔
هكذا رواه جمع عن شعبة منهم: حجاج بن محمد عند أحمد 20/ (12779)، وعثمان بن عمر عند البخاري (4172)، ومحمد بن جعفر غندر عنده أيضًا (4834)، ويحيى بن سعيد القطان عند النسائي (11434)، وخالد بن الحارث عنده أيضًا (11438)، خمستهم عن شعبة، بهذا الإسناد - وذكروا فيه الحديبية مكان خيبر، وهو المحفوظ. وقد بيَّن حجاج وعثمان بن عمر في روايتيهما عن شعبة أنَّ أول الحديث في ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ من رواية قتادة عن أنس، وأما "هنيئًا لك" … إلخ فمن روايته عن عكرمة مرسلًا.
حوالہ / مصدر: شعبہ سے ایک جماعت نے اسے ایسے ہی روایت کیا، جن میں: حجاج بن محمد (احمد: 20/ 12779)، عثمان بن عمر (بخاری: 4172)، محمد بن جعفر غندر (بخاری: 4834)، یحییٰ قطان (نسائی: 11434) اور خالد بن حارث (نسائی: 11438) شامل ہیں۔ ان پانچوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور خیبر کی جگہ "حدیبیہ" کا ذکر کیا، یہی محفوظ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج اور عثمان بن عمر نے واضح کیا کہ حدیث کا پہلا حصہ (انا فتحنا لک...) قتادہ عن انس سے ہے، جبکہ دوسرا حصہ (ہنیئاً لک...) قتادہ عن عکرمہ سے مرسلاً ہے۔
وأخرجه أيضًا أحمد 19 / (12226) و (12374) و 20/ (13035) و (13246) و 21/ (13639)، ومسلم (1786)، والترمذي (3263)، وابن حبان (370) و (6410) من طرق عن قتادة، عن أنس. وذكروا فيه الحديبية.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (1786)، ترمذی (3263) اور ابن حبان نے قتادہ عن انس کے مختلف طرق سے روایت کیا اور سب نے "حدیبیہ" کا ذکر کیا۔
وأخرجه كذلك ابن حبان (371) من طريق الحسن البصري، عن أنس.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (371) نے حسن بصری عن انس کے طریق سے بھی روایت کیا۔
(1) هذا ذهول من المصنّف ﵀، فإنه لم يقع مخرَّجًا من هذا الطريق عند مسلم ولا غيره فيما وقفنا عليه، ولم يذكر فيه خيبر سوى حرميِّ بن عمارة كما سبق. وأبو موسى المذكور هو محمد بن المثنَّى المعروف بالزَّمِن، وشيخه: محمد هو ابن جعفر المعروف بغُندَر.
اہم نکتہ: یہ مصنف کا ذہول (غلطی) ہے، کیونکہ یہ مسلم یا کسی اور کے ہاں اس طریق سے مخرج نہیں ہے جہاں تک ہم نے دیکھا، اور خیبر کا ذکر صرف حرمی بن عمارہ نے کیا ہے۔ ابو موسیٰ سے مراد محمد بن مثنیٰ زمن اور ان کے شیخ محمد سے مراد ابن جعفر غندر ہیں۔
(2) كذا في النسخ التي بين أيدينا من "المستدرك"، ويغلب على ظنِّنا أنه سبق قلم من المصنّف أو من بعض النُّساخ، فإنَّ الذي ذكر في الخبر الحديبية وخيير.
نوٹ / توضیح: "المستدرک" کے موجودہ نسخوں میں ایسے ہی ہے، لیکن ہمارا غالب گمان ہے کہ یہ مصنف یا ناسخین کی طرف سے قلم کی غلطی ہے، کیونکہ خبر میں ذکر حدیبیہ اور خیبر کا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3754 سے ماخوذ ہے۔