المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الْفَتْحِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ باب: سورۂ الفتح کے نزول کا سبب (مکہ اور مدینہ کے درمیان)
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعبَّاس بن الفَضْل الأَسْفاطي قالا: حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني مُجمِّع بن يعقوب، عن أبيه قال: سمعتُ مجمِّعَ بن جاريةَ يقول: أَقبَلْنا مع رسول الله ﷺ من الحُديبيَة حتَّى بَلَغَ رسولُ الله ﷺ كُرَاعَ الغَمِيم، فإذا الناسُ يَرسِمون نحوَ رسول الله ﷺ، فقال بعض الناس لبعض ما للناسِ؟ قالوا: أُوحِيَ إلى رسول الله ﷺ، فحرَّكْنا حتَّى وَجَدْنا رسولَ الله ﷺ عند كُراعِ الغَميم واقفًا، فلما اجتمع عليه الناسُ قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، فقال بعض الناس: أوَفَتحٌ هو؟ قال: "والذي نفسي بيدِه إنَّه لَفَتحٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3711 - لم يرو مسلم لمجمع شيئا ولا لأبيه وهما ثقتانسیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس لوٹے یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ مقامِ کُراع الغَمیم پر پہنچے، تو اچانک لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف (تیزی سے) اپنی سواریاں دوڑانے لگے۔ بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ ہم نے بھی اپنی سواریاں تیز کر دیں یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ کُراع الغَمیم پر کھڑے ہوئے پایا۔ جب تمام لوگ آپ ﷺ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان کے سامنے یہ تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ ”بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کر دی ہے“ [سورة الفتح: 1] اس پر کسی نے (حیرت سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ واقعی فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، یقیناً یہ فتح ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند میں یعقوب (مجمع کے والد) کی وجہ سے "لین" (کمزوری) ہے۔ یہ نمبر (2626) پر گزر چکی ہے۔
لكن يشهد لكون سورة الفتح نزلت بعد الحديبية حديث المسور بن مخرمة السابق.
متابعات و شواہد: لیکن سورہ فتح کے حدیبیہ کے بعد نازل ہونے پر مسور بن مخرمہ کی سابقہ حدیث شاہد ہے۔
وحديث عبد الله بن مسعود عند أحمد 6 / (3710)، والنسائي (8802). وإسناده حسن.
متابعات و شواہد: نیز عبد اللہ بن مسعود کی حدیث جو احمد (6/ 3710) اور نسائی (8802) میں ہے، اور اس کی سند "حسن" ہے۔
يَرسِمون؛ أي: يذهبون إليه سِراعًا.
نوٹ / توضیح: "یرسمون" کا مطلب ہے: وہ اس کی طرف تیزی سے جاتے ہیں۔