حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل، حَدَّثَنَا محمد بن سابق، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وإنَّه لَعَلَمٌ لِلسَّاعةِ﴾ [الزخرف: 61]، قال: خروجُ عيسى ابن مريمَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3675 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3675 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وإنَّه لَعَلَمٌ لِلسَّاعةِ﴾ [الزخرف: 61] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا خروج (آمد) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حَدَّثَنَا عُبيد بن كَثير العامري، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن عبد الله الدارِمي، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة [عن محمد بن سُوقَة] (4) عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾، فقال: "النجومُ أمانٌ لأهل السماء، فإذا ذهبتْ أتاها ما يُوعَدون، وأنا أمانٌ لأصحابي ما كنتُ، فإذا ذهبتُ أتاهم ما يُوعَدون، وأهلُ بيتي أمانٌ لأمَّتي، فإذا ذهب أهلُ بيتي أتاهم ما يُوعَدون" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3676 - أظنه موضوعا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3676 - أظنه موضوعا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اس آیت) ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ (کے حوالے سے) فرمایا: ”ستارے اہل آسمان کے لیے امان ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان والوں پر وہ وقت آ جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، اور جب تک میں (موجود) ہوں میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ وقت آ جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے اہل بیت میری امت کے لیے امان ہیں، جب میرے اہل بیت رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي، حَدَّثَنَا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حَدَّثَنَا قَبِيصة بن عُقبة، حَدَّثَنَا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس؛ في قوله ﷿: ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾، قال: مَكَثَ عنهم ألفَ سنة ثم قال: ﴿إِنَّكُم ماكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [44 - ومن تفسير سورة (حم) الدخان] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3677 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [44 - ومن تفسير سورة (حم) الدخان] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3677 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ (جہنمی) ایک ہزار سال تک (پکارتے) رہیں گے، پھر ملک (مالک) جواب دے گا: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ ”بے شک تمہیں (یہیں) ٹھہرنا ہے۔“ [سورة الزخرف: 77] “
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔