أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، أخبرنا إسحاق، أخبرنا حَكَّام بن سَلْم الرازي - وكان ثقةً - حَدَّثَنَا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن قيس بن عُبَاد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾ الآية [البقرة: 102]، قال: إِنَّ الناس بعد آدمَ وَقَعُوا فِي الشِّرك، اتَّخَذوا هذه الأصنام وعَبَدوا غيرَ الله، قال: فجعلتِ الملائكةُ يَدْعُون عليهم ويقولون: ربَّنا خلقتَ عبادَك فأحسنتَ خَلْقَهم، ورَزَقتهم فأحسنتَ رِزْقَهم، فَعَصَوْكَ وعَبَدوا غيرَك، اللهمَ اللهمَّ، يَدعُون عليهم، فقال لهم الربُّ ﷿: إنهم في غَيبٍ، فجعلوا لا يَعذِرُونهم، فقال: اختاروا منكم اثنين أُهبِطُهما إلى الأرض فآمُرُهما وأنهاهُما، فاختاروا هاروتَ وماروتَ، قال: وذكر الحديث بطوله فيهما، وقال فيه: فلما شَرِبا الخمرَ وانتَشَيا وَقَعا بالمرأة وقَتَلا النفسَ، فكثُرَ اللَّغَطُ فيما بينهما وبين الملائكة، فنَظَروا إليهما وما يعملان، ففي ذلك أَنزَل الله ﷿ بعد ذلك: ﴿وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ الآية [الشورى: 5]، قال: فجعل بعدَ ذلك الملائكةُ يَعذِرون أهلَ الأرض ويَدْعُون لهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3655 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3655 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾ [سورة البقرة: 102] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد جب لوگ شرک میں پڑ گئے، بتوں کو معبود بنا لیا اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے، تو فرشتے ان پر بددعا کرنے لگے اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے اپنے ان بندوں کو پیدا کیا اور انہیں بہترین شکل دی، انہیں رزق دیا اور خوب نوازا، لیکن انہوں نے تیری نافرمانی کی اور دوسروں کی عبادت کرنے لگے؛ وہ مسلسل ان کے خلاف دعائیں کرتے رہے۔ تب رب عزوجل نے ان سے فرمایا: وہ غیب (آزمائش) میں ہیں، لیکن فرشتوں نے ان کا عذر قبول نہ کیا۔ تب اللہ نے فرمایا: تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرو جنہیں میں زمین پر اتاروں گا اور انہیں احکام و نواہی دوں گا، تو انہوں نے ہاروت اور ماروت کا انتخاب کیا۔ پھر راوی نے ان کا طویل قصہ بیان کیا اور بتایا: جب ان دونوں نے شراب پی لی اور نشے میں دھت ہو گئے تو انہوں نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا اور ایک جان کو قتل کر دیا، اس پر فرشتوں میں کھلبلی مچ گئی، انہوں نے ان کی طرف اور ان کے کرتوتوں کی طرف دیکھا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ ”اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔“ [سورة الشورى: 5] راوی کہتے ہیں: اس کے بعد فرشتے زمین والوں کا عذر سمجھنے لگے اور ان کے لیے دعائیں کرنے لگے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا إسماعيل بن عمر أبو المنذِر، حَدَّثَنَا كَثير بن زيد، عن المطَّلِب بن عبد الله بن حَنطَب، عن عبد الله بن عمر: أنه كان واقفًا بعَرَفاتٍ، فنَظَرَ إلى الشمس حين تدلَّت مثلَ التُّرس للغروب، فبكى واشتدَّ بكاؤُه، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ (1)﴾ إلى ﴿الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ [الشورى:17 - 19] فقال له عَبْدَةُ: يا أبا عبد الرحمن، قد وقفتُ معك مِرارًا لم تَصنَعْ هذا! فقال: ذكرتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بمكاني هذا، فقال: "أيُّها الناسُ، لم يَبْقَ من دُنْياكم هذه فيما مَضَى، إلّا كما بقيَ من يومِكم هذا فيما مَضَى منه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3656 - كثير بن زيد ضعفه النسائي ومشاه غيره
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3656 - كثير بن زيد ضعفه النسائي ومشاه غيره
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ میدانِ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، انہوں نے سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب کے وقت ڈھال کی طرح ڈھل چکا تھا، تو وہ بہت زیادہ روئے اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ﴾ سے لے کر ﴿الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ [سورة الشورى: 17 - 19] تک۔ عبدہ نے ان سے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں کئی بار آپ کے ساتھ یہاں ٹھہرا ہوں لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا! انہوں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ ﷺ یاد آ گئے جب آپ ﷺ اسی جگہ میرے اس مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے لوگو! تمہاری اس دنیا کا جتنا حصہ گزر چکا ہے اس کے مقابلے میں اب اتنا ہی باقی رہ گیا ہے جتنا تمہارے اس دن کا حصہ گزرنے کے بعد (غروب تک) باقی بچا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حَدَّثَنَا أبو أحمد الزُّبَيري، حَدَّثَنَا عمران بن زائدة بن نَشِيط، عن أبيه، عن أبي خالد الوالِبيّ، عن أبي هريرة قال: تلا رسولُ الله ﷺ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ [الشورى: 20]، ثم قال رسول الله ﷺ: "يقول الله ﷿: ابنَ آدمَ، تفرَّغْ لعبادتي أَملأْ صدرَك غِنًى، وأَسُدَّ فقرَك، وإلَّا تفعلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا، ولم أَسدَّ فقرَك" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3657 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3657 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ ”جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اسی میں سے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ [سورة الشورى: 20] پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا راستہ بند کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی ختم نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔