کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے تمام فکروں کو ایک فکر بنا لیا اللہ اس کی دنیا کی فکروں کے لیے کافی ہو گیا
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا أبو عَقِيل يحيى بن المتوكِّل، عن عمر بن محمد بن زيد، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن جعل الهمَّ همًّا واحدًا، كَفَاه الله همَّ دُنياه، ومَن تَشعَّبَتْه (1) الهمومُ، لم يُبالِ اللهُ في أيِّ أوديةِ الدنيا هَلَكَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3658 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر (آخرت) بنا لیا، اللہ اسے اس کی دنیا کی فکروں سے کفایت کرے گا، اور جس کی فکریں دنیا کی شاخوں میں بٹ گئیں تو اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوگی کہ وہ دنیا کی کن وادیوں میں ہلاک ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3699
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي عقيل، لكنه لم ينفرد به فقد تابعه عاصم بن محمد أخو عمر كما سيأتي، وهو ثقة.» [ترقيم الرساله 3699] [ترقيم الشركة 3679] [ترقيم العلميه 3658]
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشيَب، حَدَّثَنَا قَزَعةُ بن سُوَيد الباهلي، حَدَّثَنَا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبّاس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا أسألُكم على ما أَتيتُكم من البيِّنات والهُدى أجرًا، إلَّا أن تُوادُّوا الله، وأن تَقرَّبوا إليه بطاعتِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. إنما اتَّفقا في تفسير هذه الآية على حديث عبد الملك بن مَيسَرة الزَّرّاد، عن طاووس، عن ابن عبَّاس: أنه في قُربَى آل محمدٍ ﷺ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3659 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اس آیت کی تفسیر میں) فرمایا: ”میں تم سے ان واضح نشانیوں اور ہدایت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم اللہ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگرچہ شیخین نے اس آیت کی تفسیر میں عبدالملک بن میسرہ الزراد کی طاؤس کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ اس سے مراد آلِ محمد ﷺ کی قرابت داری ہے۔ [سورة الشورى: 23]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف قزعة بن سويد. ابن أبي نجيح: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 3700] [ترقيم الشركة 3680] [ترقيم العلميه 3659]